Showing posts with label Article. Show all posts
Showing posts with label Article. Show all posts

Wednesday, 2 February 2022

Zeher e zuban by Andalib

زہر زباں ۔۔۔

 

 

 

دنیا میں پاۓ جانے والے زہر کی بہت سی قسمیں ہیں جو کہ انسان کو موت کے کھاٹ اتارنے میں پل نہیں لگاتی اور ان خطرناک ترین زہر کی قسموں میں polonium سب سے زیادہ خطر ناک مانی جاتی ہے یعنی کہ پہلے نمبر پر یہی ہے اس کے بعد Botulinum toxin اور Brodifacoum وغیرہ آتی ہیں یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ جو زہر زبان پر انسان لیے پھرتا ہے اس کو کس نمبر پر رکھا جاۓ کیا اس معاشرے میں زبان کے زہر سے زیادہ کوئی اور زہر بھی خطر ناک ہو گا زبان کا زہر بھی تو چلتے پھر تے انسانوں کو قبر میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔آج انسان کی زبان سے زیادہ تباہ کن polonium بھی نہیں ہو گا ہر زہر کا تریاق بھی ہوتا ہے مگر زبان کے زہر کا آج تک کوئی تریاق نہیں بنا سکا ۔ آج  ہمارے معاشرے میں لوگ اپنے الفاظ اپنی گفتگو کے زہر سے لوگوں کو مار رہے ہیں آج حضرت انسان دانتوں میں کسی ایٹم بم سے زیادہ خطر ناک ھتیار لیے پھر رہا ہے جو انسانیت کا قتل عام کر رہی ہے

 

 

بے خبری تو اس حد تک ہے کہ ہماری وجہ سے کوئی مر گیا ہے ہمیں پتا تک نہیں کے ہمار ے الفاظ زہر بن چکے ہیں کیا ایسا نہیں ہے ؟؟ آج لوگ دوسروں کی ظاہری صورت کو لے کر  دھجیاں بکھر دی جاتی ہیں اور پھر بڑے انداز سے just kidding کا نام  دے دیا جاتا ہے کبھی کسی کے رنگ کا مذاق تو کبھی کسی کے بونے قد پر قہقہے ۔ ہم انسان تو انسان کہلانے کے قابل نہیں رہے یہ جو خوبصورتی بدصورتی کے میعار محدود عقل والے انسان ہیں ورنہ اس ذات پاک کی بنائی ہوئی ہر تخلیق لاجواب ہے

 ۔

آج کا نام نہاد modern انسان بھی جہالت والے زمانے کا پيرو کار بن چکا ہے جیسے عرب کے بدو اللّه تبارك تعالیٰ کی تخلیقات کا مذاق اڑاتے اور پھر اللّه نے ان کی بستیاں ان لوگوں سمیت تباہ کر دی تو پھر آج کا انسان بھی اس وسیع اختیارات والی زات کی گرفت سے باہر نہیں لہٰذا ابلیس مت بنے جس نے صرف مادہ دیکھ کے سجدے سے انکار کر دیا اور اس سجدے کا حکم دینے والی ذات کو بھلا بیٹھا اپنی اسی زبان اور سوچ کے زہر سے جنت گنوا بیٹھا

اور پھر آج انسان اپنے رشتوں کو اس زبان کے زہر کی وجہ سے گنوا رہا ہے

نیلسن منڈیلا نے کہا تھاکہ......

"رشتے کھبی بھی قدرتی موت نہیں مرتے انہیں انسان خود مارتا ہے"

اور آج یہی سب ہو رہا ہے آج ہم اپنی نفرت اپنی زبان کے زہر سے اپنے رشتوں کا خون کر رہے ہیں ہمارے الفاظ لوگوں کا قتل کر رہے ہیں اسی لیے کہتے ہیں

گفتگو کیجیے مگر احتیاط کے ساتھ

لوگ مر بھی سکتے ہیں الفاظ کے ساتھ

ہم دوسروں کو برا اور خود کو اچھا ثابت کرنے کرنے کے لیے ایسا زہر اس زبان سے نکالتے ہیں اگلا انسان زندہ لاش بن کے رہ جاتا ہے اس کی روح بھی گهایل ہو جاتی ہے لوگ سیاست دانوں ادا کاروں پر تنقید کرنا ان کی ذات کی دھجیاں بکھیرنا اپنا حق سمجھتے ہیں آخر کیوں ہم اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کیا وہ برے ہیں تو ھمارے پاس جنت کی کنجیا ہیں کیا ؟؟

  

 قرآن تو کہتا ہے

  

اے ایمان والو ! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑاے ممکن ہے وہ لوگ تم سے بہتر ہو اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا مذاق اڑاے ممکن ہے وہی ان مذاق کرنے والیوں  سے بہتر ہوں ۔

 القران

 

 

 

لہٰذا ان کسی کے خلاف زبان کا استعمال کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ہو سکتا اگلا ہم سے بہتر ہو یہ زہر زباں کسی کو مار سکتا ہے اور قتل تو پھر کسی صورت معاف نہیں تو پھر اپنی موت سے پہلے اپنی زبان کا ذائقہ چکھ لیں کہیں یہ زہر تو نہیں ؟؟

 

    


از عندلیب


Sunday, 12 December 2021

Medical store per utarti ababelen by Dr Babar Javed

  

میڈیکل اسٹور پر اترتی ابابیلیں👍

( ڈاکٹر بابر جاوید)

 

(زرا نم ھو تو یہ مٹی ......)

 

سیلزمین سے دوائیں نکلوانے کے بعد، پیسے دینے کے لیے جب کائونٹر پر پہنچا تو مجھ سے پہلے قطار میں دو لوگ کھڑے تھے۔

سب سے آگے ایک بوڑھی خاتون، اس کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا۔

میری دوائیاں کائونٹر پر سامنے ہی رکھی تھیں اور ان کے نیچے رسید۔ ساتھ ہی دو اور ڈھیر بھی تھے جو مجھ سے پہلے کھڑے لوگوں کے تھے۔

مجھے جلدی تھی کیونکہ گھر والے گاڑی میں بیٹھے میرا انتظار کررہے تھے۔۔۔ مگر دیر ہورہی تھی کیونکہ بوڑھی خاتون کائونٹر پر چپ چاپ کھڑی تھی۔

میں نے دیکھا، وہ بار بار اپنے دبلے پتلے، کانپتے ہاتھوں سے سر پر چادر جماتی اور جسم پر لپیٹتی تھی۔ اسکی چادر کسی زمانے میں سفید ہوگی مگر اب گِھس کر ہلکی سرمئی سی ہوچکی تھی۔ پائوں میں عام سی ہوائی چپل اور ہاتھ میں سبزی کی تھیلی تھی۔ میڈیکل اسٹور والے نے خودکار انداز میں خاتون کی دوائوں کا بل اٹھایا اور بولا۔

'980 روپے'۔ اس نے خاتون کی طرف دیکھے بغیر پیسوں کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ خاتون نے چادر میں سے ہاتھ باہر نکالا اور مُٹھی میں پکڑے, مڑے تڑے، 50 روپے کے دو نوٹ کائونٹر پر رکھ دئیے۔ پھر سر جھکالیا۔اب دکاندار نے سر اٹھا کر عورت کو دیکھا اور بولا۔

'بقایا ؟'۔ اس کی آواز اچانک دھیمی ہوگئی تھی۔ بالکل سرگوشی کے برابر۔ بوڑھی عورت سر جھکائے اپنی چادر ٹھیک کرتی رہی۔

شاید دو سیکنڈز کا سناٹا ہوا مگر ان دو سیکنڈز میں ہم سب کو اندازہ ہوگیا کہ عورت کے پاس دوائوں کے پیسے یا تو نہیں ہیں یا کم ہیں اور وہ کشمکش میں ہے کہ کیا کرے۔ دکاندار نے اچانک سر جھٹکا اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر، تیزی سے عورت کی دوائوں کا ڈھیر، تھیلی میں ڈال کر آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

'اچھا اماں جی۔ شکریہ'۔

بوڑھی عورت کا سر بدستور جھکا رہا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھیلی پکڑی اور کسی کی طرف دیکھے بغیر دکان سے باہر چلی گئی۔ ہم سب اسے جاتا دیکھتے رہے۔

میں حیران تھا کہ 980 روپے کی دوائیں اس دکاندار نے صرف 100روپے میں دے دی تھیں۔ اس کی فیاضی سے میں متاثر ہوا تھا۔

جونہی وہ باہر گئی، دکاندار پہلے ہمیں دیکھ کر مسکرایا۔ پھر کائونٹر پر رکھی پلاسٹک کی ایک شفاف بوتل اٹھالی جس پر لکھا تھا

 

'ڈونیشنز فار میڈیسنز'

یعنی دوائوں کے لیے عطیات

 

اس بوتل میں بہت سارے نوٹ نظر آرہے تھے۔ زیادہ تر دس اور پچاس کے نوٹ تھے۔ دکاندار نے تیزی سے بوتل کھولی اوراس میں سے مٹھی بھر کر پیسے نکال لیے۔ پھر جتنے پیسے ہاتھ میں آئے انہیں کائونٹر پر رکھ کر گننے لگا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا کام شروع ہوگیا ہے مگر دیکھتا رہا۔

دکاندار نے جلدی جلدی سارے نوٹ گنے تو ساڑھے تین سو روپے تھے۔

اس نے پھر بوتل میں ہاتھ ڈالا اور باقی پیسے بھی نکال لیے۔

اب بوتل بالکل خالی ہوچکی تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن بند کیا اور دوبارہ پیسے گننے لگا۔ اس بار کُل ملا کر ساڑھے پانچ سو روپے بن گئے تھے۔

اس نے بوڑھی عورت کے دیے ہوئے، پچاس کے دونوں نوٹ، بوتل سے نکلنے والے پیسوں میں ملائے اور پھر سارے پیسے اٹھا کر اپنی دراز میں ڈال دئیے۔

پھر مجھ سے آگے کھڑے گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔

'جی بھائی'۔

نوجوان نے، جو خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، ایک ہزار کا نوٹ آگے بڑھا دیا۔ دکاندار نے اس کا بل دیکھ کر نوٹ دراز میں ڈال دیا اور گِن کر تین سو تیس روپے واپس کردیے۔

ایک لمحہ رکے بغیر، نوجوان نے بقایا ملنے والے نوٹ پکڑ کر انہیں تہہ کیا۔ پھر بوتل کا ڈکھن کھولا اور سارے نوٹ اس میں ڈال کر ڈھکن بند کردیا۔ اب خالی ہونے والی بوتل میں پھر سے، 100 کے تین اور دس کے تین نوٹ نظر آنے لگے تھے۔ نوجوان نے اپنی تھیلی اٹھائی, سلام کیا اور دکان سے چلا گیا۔

بمشکل ایک منٹ کی اس کارروائ نے میرے رونگھٹے کھڑے کردئیے تھے۔ میرے سامنے، چپ چاپ، ایک عجیب کہانی مکمل ہوگئی تھی اور اس کہانی کے کردار، اپنا اپنا حصہ ملا کر، اسکرین سے غائب ہوگئے تھے۔

صرف میں وہاں رہ گیا تھا جو اس کہانی کا تماشائی تھا۔

'بھائی یہ کیا کیا ہے آپ نے؟'۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں پوچھ بیٹھا۔'یہ کیا کام چل رہا ہے؟'۔

'اوہ کچھ نہیں ہے سر'۔ دکاندار نے بے پروائی سے کہا۔'ادھر یہ سب چلتا رہتا ہے'۔

'مگر یہ کیا ہے؟۔ آپ نے تو عورت سے پیسے کم لیے ہیں؟۔ پورے آٹھ سو روپے کم۔ اور بوتل میں سے بھی کم پیسے نکلے ہیں۔ تو کیا یہ اکثر ہوتا ہے؟'۔

میرے اندر کا پرانا صحافی بے چین تھا جاننے کے لیے کہ آخر واقعہ کیا ہے۔

'کبھی ہوجاتا ہے سر۔ کبھی نہیں ہوتا۔ آپ کو تو پتا ہے کیا حالات چل رہے ہیں'۔ دکاندار نے آگے جھک کر سرگوشی میں کہا۔'دوائیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں۔ سفید پوش لوگ روز آتے ہیں۔ کسی کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس بالکل نہیں ہوتے۔ تو ہم کسی کو منع نہیں کرتے۔ اللہ نے جتنی توفیق دی ہے، اتنی مدد کردیتے ہیں۔ باقی اللہ ہماری مدد کردیتا ہے'۔

اس نے بوتل کی طرف اشارا کیا۔

'یہ بوتل کتنے دن میں بھر جاتی ہے؟'۔ میں نے پوچھا۔

'دن کدھر سر'۔ وہ ہنسا۔'یہ تو ابھی چند گھنٹے میں بھرجائے گی'۔

'واقعی'۔ میں حیران رہ گیا۔ 'پھر یہ کتنی دیر میں خالی ہوتی ہے؟'۔

'یہ کبھی خالی نہیں ہوتی سر۔ اگر خالی ہوجائے تو دو سے تین گھنٹے میں پھر بھر جاتی ہے۔ دن میں تین چار بار خالی ہوکر بھرتی ہے۔ شکر الحمدللہ'۔ دکاندار نے اوپر دیکھ کر سینے پر ہاتھ رکھا اور بولا۔

'اتنے لوگ آجاتے ہیں پیسے دینے والے بھی اور لینے والے بھی'۔ میں نیکی کی رفتار سے بے یقینی میں تھا۔

'ابھی آپ نے تو خود دیکھا ہے سر'۔ وہ ہنسا۔'بوتل خالی ہوگئی تھی۔ مگر کتنی دیر خالی رہی۔ شاید دس سیکنڈ۔ لیکن ابھی دیکھیں'۔ اس نے بوتل میں پیسوں کی طرف اشارہ کیا۔

'پیسے دینے والے کون ہیں؟۔

'ادھر کے ہی لوگ ہیں سر۔ جو دوائیں خریدنے آتے ہیں، وہی اس میں پیسے ڈالتے ہیں'۔

'اور جو دوائیں لیتے ہیں ان پیسوں سے، وہ کون لوگ ہیں؟'۔ میں نے پوچھا۔

'وہ بھی ادھر کے ہی لوگ ہیں۔ زیادہ تر بوڑھے، بیوائیں اور کم تنخواہ والے لڑکے ہیں جن کو اپنے والدین کے لیے دوائیں چاہیے ہوتی ہیں'۔ اس نے بتایا۔

'لڑکے؟'۔ میرا دل لرز گیا۔'لڑکے کیوں لیتے ہیں چندے کی دوائیں؟'۔

'سر اتنی بے روزگاری ہے۔ بہت سے لڑکوں کو تو میں جانتا ہوں ان کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے'۔ اس نے دکھی لہجے میں کہا۔ 'اب گھر میں ماں باپ ہیں۔ بچے ہیں۔ دوائیں تو سب کو چاہئیں۔ تو لڑکے بھی اب مجبور ہوگئے ہیں اس بوتل میں سے دوا لینے کے لیے۔ کیا کریں۔ کئی بار تو ہم نے روتے ہوئے دیکھا ہے اس میں سےلڑکوں کو پیسے نکالتے ہوئے۔ یقین کریں ہم خود روتے ہیں'۔ مجھے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی نظر آنے لگی۔

'اچھا میرا کتنا بل ہے؟'۔ میں نے جلدی سے پوچھ لیا کہ کہیں وہ میری انکھوں کی نمی نہ دیکھ لے۔

'سات سو چالیس روپے'۔ اس نے بل اٹھا کر بتایا اور ایک ہاتھ سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ میں نے بھی اس کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور جو پیسے باقی بچے، بوتل کا ڈھکن کھول کر اس میں ڈال دیے۔

'جزاک اللہ سر'۔ وہ مسکرایا اور کائونٹر سے ایک ٹافی اٹھا کر مجھے پکڑا دی۔

میں سوچتا ہوا گاڑی میں آبیٹھا۔

غربت کی آگ ضرور بھڑک رہی ہے ۔

مفلسی کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔

مگر انہی آسمانوں سے ابابیلوں کے جھنڈ بھی، اپنی چونچوں میں پانی کی بوندیں لیے، قطار باندھے اتر رہے ہیں۔

خدا کے بندے اپنا کام کررہے ہیں۔

چپ چاپ۔ گم نام۔ صلے و ستائش کی تمنا سے دور۔

اس یقین  کے ساتھ کہ خدا دیکھ رہا ہے اورمسکرارہا ہے کہ اس کے بندے اب بھی اس کے کام میں مصروف ہیں۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

***************

Zikar e Hussain se fikar e Hussain tak by Dr Babar Javed

  

ذکرِ حسین ؓ سے فکرِ حسینؓ تک!!

( ڈاکٹر بابر جاوید)

 ذکر کا مدعا فکر ہے، اور فکر ہمیں آمادۂ ذکر کرتا ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ فکر ایک خاموش ذکر ہے اور ذکر ایک بولتا ہوا فکر!!  ذکر ایک دعویٰ ہے، فکر ایک نظریاتی وابستگی ہے----فکر ایک ایسی نظریاتی وابستگی ہےٗ جس میں دل اور عقل یکجائی میں ہم نوائی کرتے ہیں۔  ذکر اور فکر کے بعد ہی انسان ایک مبنی بر شعور عمل کی شاہراہ پر جادۂ منزل ہوتا ہے۔ ذکر سے فکر تک ، اور پھر فکر سے  عمل تک سفر--- ایک ایسا سفر ہےٗ جو راستے میں دم نہیں توڑتا۔ یہ سفر اپنی منزل سے دُور نہیں --- شرط یہ ہے کہ مسافر مایوس نہ ہو،  دوسرے مسافروں سے جھگڑا نہ کرے اور وہ مادّی نظامِ فکر کے ہاتھ پر بیعت نہ کرے۔ آج کے دَور میں جس نے اپنے نظامِ فکر پر مادّے کی حکمرانی قبول کر لی‘ اُس نے گویا یزید کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یزید اور اہلِ شام مادّی نظامِ فکر کی علامت ہیں۔ جنابِ حسین ؑ اور اہلِ مدینہ روحانی اور اخلاقی نظامِ فکر کے داعی ہیں۔

 

 کرب و بلا کا یہ واقعہ محض دو شخصیات یا دو قبیلوں کا تنازع نہیں، اور نہ ہی یہ حصولِ اقتدار کی کوئی جنگ تھی۔ مدینہ سے کربلا   کے پڑاؤ تک یہ سارا سفر دراصل دو نظریات کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف امام عالی مقام اپنے ناناٗ ہادیٔ دوعالم‘ شہر علمؐ کی عطا کردہ آسمانی ہدایت کے نمائندہ ہیں، یہ اپنے والدِ گرامی‘ دَرِ علم ٗابوترابؑ کے فکری ورثے کے جانشین ہیں ---- اور دوسری طرف شامی حکمران ہیں‘ جو قیصر وکسریٰ کے نقشِ قدم  پر سنگ و خشت کے محلات کی تعمیر میں مصروف ہیں اور اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی لیے ہر وہ کام کر گزرنے کے لیے تیار ہیں جس کی نظیر نہ کہیں دین میں ملتی ہے اور نہ ہی کتابِ انسانیت سے۔ اِدھر خانوادۂ نبوّ ت ورسالت ؐ کا بچہ بچہ، جوان، خواتین اور عمر رسیدہ بزرگ ٗسب کے سب کتابِ انسانیت میں بابِ حریت رقم کر رہے ہیں۔

 

عارفین کہتے ہیں کہ کربلا کا قافلہ رکا نہیں، آج بھی رواں دواں ہے، آج بھی جو شخص روحانی و اخلاقی اقدار کا امین ہوگا ‘مادّی نظامِ فکر کی قوتیں اُس کا جینا محال کر دیں گی، اُسے کوفۂ ملامت سے گزرنا ہو گا، شامی صفت لوگ  اسے اس کے حق سے محروم  کریں گے، وہ  سرِعام طعن و تضحیک کا  نشانہ بنے گا --- اور  اپنے ظرف کے حسبِ حال دشت ِ کرب و بلا میں آبلہ پیمائی اُس کا مقدر ہوگی۔ اگر وہ اس پر راضی رہتا ہے، شکوہ و شکایت کاراستہ اختیار نہیں کرتا ‘ تو وہ بالیقین اِس قافلے کا حصہ گنا جائے گا---ایسا قافلہ کہ جسے اس کا غبار بھی  نصیب ہو جائےٗ وہ خوش نصیب کہلاتا ہے، انعام یافتہ لکھا جاتا ہے اور حکمت کے خیر کثیر سے اُس کا دامن بھر دیا جاتا ہے۔ اِس راہ کے راہرو کو جلوہ ٔدانشِ فرنگ خیرہ نہ کر سکے گا کیونکہ اِس کی آنکھ میں خاکِ مدینہ و نجف  کا سرمہ  لگا دیا جاتا ہے۔

 

 ذکرِ حسین ؑایک شوق ہے، فکرِ حسینؐ ایک ذوق ہے۔ شوق اور ذوق دونوں کا بلند آہنگ ہونا ضروری ہے، تا آن کہ شاہراہِ مستقیم پر انسان  گامزن ہو سکے  ---  یہی راہ ہے ٗجو سیدھی ہے، یہی انعام یافتگان کی منزل ہے --  عارفینِ حق اِسی راہ پر جادہ پیما ہوتے ہیں۔ راہِ حق کے راہروٗ  اپنے پیش رَو کے قدم پر ہوتے ہیں اور اپنی استقامت کی وجہ سے پیچھے آنے والوں کے لیے ایک سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ سلسلہ بہ سلسلہ یہ تمام سلسلے دَرِ علم ؐ کی وساطت سے شہر علمؐ میں جا ملتے ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ فقر کے بہتر( 72) درجے ہیں اور میدانِ کربلا میں یہ تمام کے تمام  درجے طے ہوئے۔ 

 

 واقعہ کربلا صرف ایک دینی درس ہی نہیں‘ بلکہ ایک مکمل درسِ انسانیت  ہے۔ اِس کی یاد، ذکر اور فکر تک رسائی کے لیے قاضیوں اور مفتیوں سے فتویٰ نہ لیا جائے بلکہ اپنے باطن میں اس کا ربط تلاش کیا جائے،  ضمیر انسانیت میں اُس کا جواز ڈھونڈا جائے۔ اس قیمتی پیغام کو مسلکی اور گروہی تعصبات کی نذر نہ کیا جائے‘ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ خانوادہ نبوت و ولایت پوری اُمّت ِ مسلمہ کا سرمایہ ہے، اِ س خانوادے سے مؤدّت کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کا  ہر حکم قیامت تک کے لیے نافذ العمل ہے۔ سیاسی اور سماجی مجبوریاں کسی حکم کو منسوخ نہیں کر سکتیں۔اگر کسی کو ذکر حسین ؑمیں پنہاں فکر حسینؐ کے سَوتوں تک معنوی رسائی میسر نہیں آرہی ہے‘  تو وہ ذکرِ حسینؑ کا جواز قران میں موجود حکم’’مؤدۃ ذی القربیٰ‘‘ ہی میں تلاش کر لے---- اس آیت مبارکہ میں رسولِ پاکﷺ کو وحی کی جارہی ہے کہ آپؐ انہیں کہہ دیں‘ میں تم سے رسالت کا اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے عزیز و اقرباء کے ساتھ مؤدت اختیار کرو۔ مستند احادیث مبارکہ میں درج ہے کہ اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دو اور انہیں اہلِ بیت کی محبت سکھاؤ۔ مؤدتٗ محبت سے کم درجے کا جذبہ ہے، اِس کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ اہل بیت اور جملہ سادات کو عوام الناس کی صف میں کھڑا نہ کیا جائے۔ خالقِ کائنات نے اپنے حبیبؐ کے نسب کو یہ عزت و تکریم دی  کہ عوام الناس  کا صدقہ و زکوٰۃ  اِن پر حرام کر دیا‘ہمیں  مخلوق ہونے کے ناتے  یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔

 

  ہمارے ہاں یہ ایک عجیب رواج بن چکا ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر متنازع گفتگو کا آغاز ہو جاتا ہے، ہر طرف ایک دانشورانہ اور مجتہدانہ پند و نصائح کا طومار لگ  جاتا ہے-- ذکر ایسے نہیںٗ ایسے ہونا چاہیے ، یاد اس طرح نہیں بلکہ اس طرح منانی چاہیے ، محبت کے تقاضے یوں نہیں بلکہ یوں پورے ہوتے ہیں، اور یہ کہ یہ لفظی ترکیب اس طرح نہیں بلکہ اس طرح سے باندھنی چاہیے، الغرض اس لایعنی بحث میں ہم ذکر اور فکر دونوں سے دُور ہوئے جاتے ہیں۔ یہ  ایک  فکری المیہ ہے کہ ہم محبت اور عقیدت کی بجائے اہلِ بیت کی بے مثل قربانیوں کو محض سیاسی تناظر میں دیکھنے کی جستجو کرتے ہیں۔ تاریخی واقعہ جیسا بھی ہو ٗاگر تاریخی شخصیت سے محبت و مؤدت کا رشتہ نہ ہوگا تو ساری  گفتگو ایک بے تعلق  فلسفہ بن کر رہ جاتی ہے۔ سیاسی توجیہات تلاش کرنے والے تلاشِ حق میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ بے تعلق فلسفہ اور تاریخ تو غیر مسلم بھی پڑھتے رہتے ہیں اور  اپنے طور ریسرچ کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں کلمہ اور کلمے والوں کی نسبت نصیب نہیں ہوتی۔ بات ریسرچ کی نہیں‘ سرچ کی ہے۔ ریسرچ واقعات اور افراد  کی ہوتی ہے، سرچ یا تلاش ٗحق کی ہوتی ہے۔ حق کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ حق ٗحق کو نہیں کاٹتا۔ مردانِ حق اپنے سے پہلے گزرنے والے حق پرستوں کے ساتھ ربط اور رابطے میں ہوتے ہیں۔ ایسی تحقیق جو ماضی سے منقطع کردے‘ وہ عام طور پر گمراہ کن ہوتی ہے۔ راہِ حق ٗراہروانِ حق کے چلنے اور کہنے سے ترتیب پاتا ہے۔ حکم ہے’’کونو مع الصادقین‘‘ سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ مرشدی حضرت واصف واصفؒ فرماتے ہیں کہ سچ وہ ہے جو سچے کی  زبان سے نکلے۔  اب یہ جاننا کوئی راکٹ سائینس نہیں کہ حق پرست کون تھے، اور اُن کے مقابل میں آنے والے کون ہیں۔ آج ہم اپنے رائے کا ووٹ جس کیمپ کی طرف کاسٹ کرتے ہیں، اگر ماضی میں ہمیں وہ زمانہ ملتا تو ہم اسی کیمپ کا حصہ ہوتے۔ سلامتی کے جس دین کو سلامت رکھنے کے لیے آلِ نبیؐ نے اپنا سب  کچھ  قربان کیا ٗ اس دین کو ہم نے کہاں کہاں برباد کیا؟ ہمیں سوچنا چاہیے۔ ہمیں اپنی سوچ کے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیےکہ ہم کس طرف کھڑے ہیں. معترفین کی طرف یا معترضین کی طرفداری میں؟

حکیم الامّت اس معاملے میں ایک پُرحکمت فرقان قائم کرگئے.

 

حقیقتِ اَبدی ہے مقامِ شبیّری.

 

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی.۔۔

***************

Thekedaron ka mulk by Dr Babar Javed

  

ٹھکیداروں کا ملک !!

( ڈاکٹر بابر جاوید)

مجھے کل ایک دوست نے کراچی کی ایک خاتون کا وزیراعلیٰ سندھ کے نام خط بھجوایا، خاتون نے خط میں لکھا، میرے خاوند انتہائی علیل ہیں، یہ ہفتے میں تین بار ڈائیلیسز کراتے ہیں، ان کے ڈائیلیسز، ماہانہ ٹیسٹوں، ادویات، انجیکشنز اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ خرچ ہو جاتے ہیں۔

ہماری دونوں بیٹیاں مل کر یہ اخراجات برداشت کرتی ہیں لیکن اب ان کے بس کی بات بھی نہیں لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر میرے خاوند کے میڈیکل اخراجات کا کوئی مستقل بندوبست کر دیں، خاتون نے آخر میں لکھا، میرے خاوند میرے گھر میں رہتے ہیں اور یہ گھر مجھے میری والدہ نے دیا تھا، یہ ایک عام سا خط تھا، ملک میں روز ہزاروں لوگ اس قسم کے خط لکھتے ہیں اور حکومت سے امداد مانگتے ہیں، یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں لیکن یہ خط اس کے باوجود غیرمعمولی ہے، کیوں؟

کیوں کہ یہ درخواست کسی عام شخص نے نہیں کی، یہ خط پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی بہو دُر لیاقت علی خان نے لکھا تھا اور جس مریض کے لیے امداد مانگی جا رہی ہے اس کا نام اکبر علی خان ہے اور یہ لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی کا بیٹا ہے۔

ہمارے ملک میں شاید بہت کم لوگوں کو علم ہو گا لیاقت علی خان کرنال کے بہت بڑے جاگیردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ان کی جاگیر میں ریلوے اسٹیشن تھا اور ان کے کھیت اور باغ میلوں تک پھیلے تھے، وہ 1918 میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے گئے تھے، وکالت شروع کی تو وہ چند برسوں میں ہندوستان کے بڑے وکلاء میں شمار ہونے لگے، 1923میں سیاست میں آئے اور 1926 میں انگریز دور میں یوپی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔

 

مسلم لیگ جوائن کی تو قائداعظم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے لیڈر بن گئے، 1947 میں پاکستان آئے تو اپنی ساری زمین جائیداد، روپیہ پیسہ حتیٰ کہ کپڑے تک بھارت چھوڑ آئے اور کراچی میں جائیداد کا کسی قسم کا کلیم نہ کیا، اس سرزمین پر ایک انچ زمین نہ لی، وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے، وہ اگر چاہتے تو آدھا کراچی، لاہور اور راولپنڈی ان کا ہوتا، وہ اگر دہلی اور ممبئی کے گھروں کا کلیم ہی لے لیتے تو ان کا خاندان آج ارب پتی ہوتا لیکن اس درویش صفت انسان نے ملک کو اپنا سب کچھ دے دیا لیکن بدلے میں لیا کچھ نہیں۔

ان کی بیگم اپنے زمانے کی انتہائی خوب صورت، مہذب اور پڑھی لکھی خاتون تھیں، وہ برٹش آرمی کے انگریز میجر جنرل ڈینیل پینٹ کی بیٹی تھیں، والدہ برہمن تھی، لکھنو یونیورسٹی سے گریجوایشن کی اور گوکھلے میموریل اسکول کلکتہ میں پڑھانا شروع کر دیا، 1931 میں ایم اے کیا اور دہلی میں پروفیسر بن گئیں، ان کا نام شیلا آئرن پینٹ تھا، 1932 میں اسلام قبول کیا، خان لیاقت علی خان سے شادی کی اور شیلا سے بیگم رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔

ان کے دو بیٹے تھے، اکبر علی خان اور اشرف علی خان، یہ دونوں سعادت مند بھی تھے اور عزت دار بھی، لیاقت علی خان اور رعنا لیاقت علی خان نے جوانی فراوانی میں گزاری تھی، دنیا جہاں کی نعمتیں ہاتھ باندھ کر سامنے کھڑی رہتی تھیں لیکن یہ لوگ جب پاکستان آئے تو یہ خالی ہاتھ تھے، کراچی میں خان لیاقت علی خان کے نام پر ہزاروں ایکڑ پر لیاقت آبادکا سیکٹر بنا لیکن اس میں بھی خان لیاقت علی خان نے ایک انچ زمین نہیں لی۔

یہ جب 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی میں سید اکبر کی گولی کا نشانہ بنے اور ان کی اچکن اتاری گئی تو پتا چلا ملک کے پہلے وزیراعظم نے شیروانی کے نیچے کرتہ نہیں پہنا ہوا تھا، بنیان تھی اور وہ بھی پھٹی ہوئی تھی، گھر میں کپڑوں کے صرف تین جوڑے اور دو جوتے تھے، اکائونٹ میں چند سو روپے تھے، بیگم اور بچے وزیراعظم ہائوس میں رہتے تھے، خواجہ ناظم الدین نئے وزیراعظم بن گئے، یہ اس گھر میں آئے تو پتا چلا لیاقت علی خان کی فیملی کے لیے پورے ملک میں کوئی گھر موجود نہیں، سوال اٹھا یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

 

لہٰذا خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ہالینڈ میں سفیر بنا کر بھیج دیا، بیگم رعنا ہالینڈ، پھر اٹلی اور آخر میں تیونس میں سفیر رہیں، یہ واپس آئیں تو ذوالفقار علی بھٹو نے انھیں گورنر سندھ بنا دیا، یہ پاکستان کی پہلی خاتون چانسلر بھی رہیں، یہ کراچی یونیورسٹی کی چانسلر تھیں، آپ اپوا سے لے کر پاکستان نیشنل وومن گارڈز، پاکستان وومن ریزرو، پاکستان کاٹیج انڈسٹریز شاپ، ماڈل کالونی برائے کرافٹس، گل رعنا نصرت انڈسٹریل سینٹر، کمیونٹی سینٹر یا پھر فیڈریشن آف یونیورسٹی وومن اور انٹرنیشنل وومن تک ملک میں خواتین کا کوئی ادارہ دیکھ لیں آپ کو خواتین سے متعلقہ ہر بڑے ادارے کے پیچھے بیگم رعنا لیاقت علی خان ملیں گی، یہ جب ہالینڈ میں سفیر تھیں تو ان کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہوا۔

ہالینڈ کی ملکہ جولیانا ان کی دوست بن گئیں، یہ دونوں خواتین اس وقت پورے یورپ میں مشہور تھیں، بیگم رعنا لیاقت تاش کے کھیل بریج کی بہت بڑی ایکسپرٹ تھیں، یہ روزانہ ملکہ کے ساتھ بریج کھیلتی تھیں، ایک دن ملکہ جولیانانے بیگم رعنا کے ساتھ شرط لگائی اگر تم آج کی بازی جیت گئی تو میں تمہیں اپنا ایک محل گفٹ کر دوں گی، بازی شروع ہوئی اور بیگم رعنا لیاقت علی جیت گئیں، ملکہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنا ایک محل رعنا لیاقت علی خان کو دے دیا اور بیگم صاحبہ نے یہ محل حکومت پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔

آج بھی ہالینڈ میں پاکستان کا سفارت خانہ اسی محل میں قائم ہے، یہ 1990میں کراچی میں فوت ہوئیں اور انھیں مزار قائد پر خان لیاقت علی خان کے پہلو میں دفن کر دیا گیا لیکن یہ ہوں یا خان لیاقت علی خان وہ اپنی اولاد کے لیے کوئی زمین یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے اور آج ان کے صاحب زادے اکبر علی خان اپنی بیگم دُر لیاقت کے گھرمیں رہتے ہیں اوران کی حالت یہ ہے ان کی بیگم اپنے بیمار خاوند کے علاج کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھنے پر مجبور ہیں، ملک کے پہلے وزیراعظم کے صاحب زادے اور بہو ہر ماہ ایک لاکھ 75 ہزار روپے افورڈ نہیں کر سکتے، یہ خان لیاقت علی خان کے ملک میں اپنے ڈائیلیسز کا خرچ پورا نہیں کر سکتے۔

 

یہ ملک ان لوگوں کا تھا، یہ وہ لوگ تھے جو میلوں پر پھیلی جاگیریں چھوڑ کر اس ملک میں آئے اور پھر پھٹی ہوئی بنیان کے ساتھ دفن ہوئے، یہ ملک راجہ صاحب محمود آباد جیسے لوگوں کا ملک تھا، وہ محمود آباد کی ریاست کے راجہ تھے، پوری زندگی اپنی رقم سے مسلم لیگ چلائی، پاکستان بنا تو کراچی آ گئے اور حکومت سے کوئی گھر، کارخانہ اور زمین نہیں لی، ملک میں جب سیاسی افراتفری پھیلی، مارشل لاء لگا تو یہ مایوس ہو گئے اور چپ چاپ اٹھے، بیگ اٹھایا اور لندن جا بسے۔

راجہ صاحب محمود آباد کا 1973میں لندن میں انتقال ہوا، وہ انتقال سے قبل ہر ملنے والے سے کہتے تھے "میں پوری زندگی جن انگریزوں سے لڑتا رہا، مجھے آخر میں انھی انگریزوں کے گھر میں پناہ لینا پڑ گئی اور میں آج ان کی مہربانی سے اپنا آخری وقت عزت کے ساتھ گزار رہا ہوں " یہ سردار عبدالرب نشتر، مولوی فضل حق، حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین کا ملک تھا، یہ لوگ ملک بننے سے قبل کروڑ بلکہ ارب پتی تھے لیکن وہ اس ملک میں آئے۔

عسرت میں زندگی گزاری اور پھر ان کی اولادیں اکبر علی خان کی طرح علاج اور چھت کو ترستی ہوئی دنیا سے رخصت ہو گئیں جب کہ ان کے اردگرد1700ایکڑ کا رائے ونڈ بھی بن گیا، کراچی کا بلاول ہائوس 64 عمارتیں ہضم کرنے کے باوجود بھی نامکمل رہا، لندن کے ایک فلیٹ کی برکت سے تین سو کنال کا بنی گالہ بھی بن گیا اور راولپنڈی کی رنگ روڈ میں چند کلومیٹر کا اضافہ کر کے زلفی بخاری کے نام پر اربوں روپے سمیٹ لیے گئے اور غلام سرور خان کے نام پر نواسٹی کے مالکان نے مارکیٹ میں بیس تیس ہزار فائلیں بھی بیچ دیں۔

آپ المیہ دیکھیے آج اس ملک میں قائداعظم کے رشتے دار چھت، علاج اور سواری کو ترس رہے ہیں، خان لیاقت علی خان کی بہو وزیراعلیٰ کو لیاقت علی خان کے صاحب زادے کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار روپے کی امداد کی درخواست کر رہی ہے، راجہ صاحب محمود آباد ان انگریزوں کے قبرستان میں مدفون ہیں جن سے لڑ کر انھوں نے پاکستان حاصل کیا تھا، حسین شہید سہروردی بیروت میں لیٹے ہیں، خواجہ ناظم الدین کی آل اولاد تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئی۔

مولوی فضل حق عبرت کی نشانی بن کر ڈھاکہ میں دفن ہو گئے اور محمد علی بوگرا ملک چھوڑ کر بوگرا گئے اور چپ چاپ وہاں انتقال کر گئے جب کہ ملک کے ٹھیکے دار آج بھی چینی، آٹے اور ایل این جی سے ایک ایک مہینے میں چار چار سو ارب روپے کما لیتے ہیں، آج لیاقت علی خان کی بہو اس ملک میں پوچھ رہی ہے کیا یہ ملک ان ٹھیکے داروں کے لیے بنا تھا، کیا لیاقت علی خان جیسے لوگوں نے یہ ملک اس لیے بنایا تھا کہ ان کے نواب ابن نواب بچے علاج کو ترستے رہیں جب کہ زلفی بخاری اور غلام سرور خان جیسے لوگ اربوں روپے کما لیں؟

یہ ہے آج کا پاکستان، ٹھیکے داروں کا ملک۔ ٹھیکے دار مفادات کے حمام میں ننگے نہا رہے ہیں، یہ ایک ایک رات میں وفاداری بدل کر صاف ستھرے ہو جاتے ہیں جب کہ مالک اور ان کی اولادیں علاج اور عزت کو ترستی ترستی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، ملک کے مالکوں کے بچے ڈائیلیسزکا خرچ برداشت نہیں کر پا رہے جب کہ وزیرصحت ادویات کی قیمت بڑھا کر تین چار ارب روپے جیب میں ڈالتے ہیں اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل بن جاتے ہیں، کیا بات ہے؟ ہمیں شاید من حیث القوم انھی احسان فراموشیوں کی سزا مل رہی ہے، ہم شاید اسی لیے پوری دنیا سے جوتے کھا رہے ہیں۔


***************

Monday, 26 April 2021

Yaqeen Article by ArfA Alvi

 یقین

ابتداء ہے رب جلیل کہ با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ جو زمین کی پہلی سطح سے لے کر آ سمان کی آخری بلندی تک ہر چیز کا مالک ہے۔ جو لفظ کن سے کائنات تخلیق کرتا ہے۔ جو مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ جس کے قبضہ قدرت میں ہر ذی روح کی جان ہے۔ جو چیونٹی سے لے کر ڈائناسور تک کا خالق ومالک و رازق ہے۔ جو رزق  لیکر بھی آزماتا ہے اور دیکربھی ۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے جسے چاہے ذلت ۔جو انسان کی شاہ رگ سے بھی قریب ہے۔ جو حاکم ہے اور یہ ساری دنیا اس کی محکوم ۔ بےشک وہ اللہ اپنی ذات، صفات میں وحدہ لا شریک ہے۔

تخلیق کائنات کے بعد جب انسان کو تخلیق کیا گیا یا تو اس کی ذات میں اچھائی اور برائی کا مادہ شامل کردیا، اور بتلایا کہ اچھائی جنت جبکہ برائی کی منزل جہنم ہے۔ اور اپنانے کا اختیار انسان کو دے دیا۔ تو صالحین نے جنت اور بدکاروں نےجہنم پائی۔ لیکن بعض اوقات اچھے کام کرنے والے بھی عذاب کا شکار کیوں ہوتے ہیں ۔۔؟ مشرکین تو کفر کی بنا پر جبکہ مسلمان نااُمیدی،مایوسی کے باعت اللہ سے دور ہوتے جا رہے۔ ہمارا نصیب مقدر پہلے سے لکھا جا چکا ہے اور انسان کو تاکید کی جاتی ہے اس پر یقین رکھنے اور ثابت قدم رہنے کی۔ مقدر کے لکھےکو دعا کے سوا اور کوئی طاقت نہیں بدل سکتی، لیکن ہم کیا کرتے ہیں جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے دعا کرنے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کی بجائے خدا کی ذات اقدس سے شکوے شکایات کرنے لگتے ہیں اللہ سے اس مشکل کی آسانی کی دعا کرنے کی بجائے انسان سے مدد مانگتے ہیں ۔انسان سے مانگتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی ہماری طرح فانی ہے بے بس مجبور لاچار ہے اگر وہ دے گا بھی تو اللہ کے دیے ہوئے میں سے تو بہتر نہیں کہ ہم براہ راست خدا سے طلب کریں۔

انسان جو سوچتا ہے اسی کی چاہ کرتا ہے اگر مل جائے تو ٹھیک نہ ملے تو نہ امیدی نہ شکرا پن جبکہ اللہ جو ہمیں عطا کرتا ہے بہترین ہوتا ہے اور جو نہیں کرتا اس میں کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد اگر کوئی اس سے پیارکرتا ہے یا  فکرمند پریشان ہوتا ہے تو وہ صرف ایک ماں ہوتی ہے جو باقی سب سے زیادہ اسے چاہتی ہے ماں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی  پہ آنے والی ہر مشکل وہ سہہ لےلیکن اولاد محفوظ رہے۔ تو وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہے کیوں بھول سکتا ہے تمہیں، جبکہ اس نے وعدہ کیا ہے تمہیں رزق، سکون، عزت، محبت دینے کا۔

انسانی فطرت ہے کہ ہمیں دوسروں کی ظاہری اچھائی اس کی جانب مائل جبکہ برائی اس سے متنفر کرتی ہے، لیکن یہ صرف اللہ ہی ہے جوہم گناہوں سے چور انسانوں سے محبت کرتا ہے ہمارے سب راز جانتے ہوئے بھی دوسروں پرعیاں نہیں کرتا ،ہزار گناہوں کے باوجود ہماری آنکھ سے نکلنے والے ایک آنسوں پرہمیں معاف کر دیتا ہے ہماری توبہ قبول کرتا ہے ،ہمیں بخش دیتا ہے اور بدلے میں جنت عطا کرتا ہے۔

آزمائش تو شرط محبت ہے۔

خدا نے اگر کسی سے عشق کیا تو وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔تو کائنات میں سب سے زیادہ مشکلات تکالیف سختیاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برداشت کیں۔اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بارہا آزمائش میں مبتلا کیا۔اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کے لئے تاکہ ہم ان کی زندگی سے بہترین نمونہ حاصل کر سکے۔ تاکہ ہم آزمائش میں بھی اللہ کی رحمت کے طلبگار رہیں اور ثابت قدم بھی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آزمائش کا مقابلہ صبر اور یقین کے ساتھ کریں کہ یہ عارضی ہے جلد ختم ہونےوہ اللہ بہت مہربان رحمان ،رحیم بخشنے والا ہے۔ بدر میں 313 کو ایک ہزار پر فتح دے سکتا ہے نوح علیہ السلام کی کشتی کو طوفان سے بچا سکتا ہے ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو ٹھنڈا اور موسی علیہ السلام کی قوم کے لئے سمندر کو چیرکر رستہ جبکہ فرعون کے لیے پھندا بنا سکتا ہے ،یوسف علیہ السلام کو اندھے کنویں میں رزق دے سکتا ہے یعقوب علیہ السلام کو چالیس سال بعد بینائی عطا کر سکتا ہے تو اے بندہ خدا تمہیں کیوںکراکیلاچھوڑے گا۔

دل سے کبھی پکار کر تو دیکھو اس کے سامنے گرگرا کر سجدہ ریز ہو کر دعا کر کے تو دیکھو اگر وہ عرش و فرش کا مالک پوری کائنات کو تمہارا وسیلہ نا بنا دے تو کہنا۔ رب تو منتظر ہوتا ہے اپنے بندے کی پکار کا اس کی التجا کا اس کی توبہ کا۔ایک بار صدق دل سے اسکی بارگاہ میں واسطہ محمد مصطفی و آ ل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دے کر تو دیکھو اگر نہ ملے تو کہنا۔(یاد رہے تو بہ آدم علیہ السلام بھی واسطہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قبول ہوئی)

۔ تو مانگو نا خدا سے انسان کے سامنے بھی تو اپنے رونے روتے ہو ناں۔ کتنی عجیب بات ہے نا ہم خود کو پرفیکٹ معتبر اور نایاب سمجھتے ہیں اپنے علاوہ کوئی نظر ہی نہیں آتا لیکن مشکل میں فانی انسان  سے کیوں کر امید۔ سوال تو اپنے سے معتبرذات سے کیا جاتا ہے نا جو صرف اللہ تعالی کی ہے۔ تو پھر بندے سے کیسا سوال۔۔۔؟

انسان اشرف المخلوقات ہو کر بھی اللہ سے مانگنے سے کتراتا ، اور حیوان لا علم،کم عقل ہونے کے باوجود بھی اللہ سے رجوع کرتا ہے ۔آہ۔۔۔ ہے نا عجیب بات آج کل کے حالات کے پیش نظر حیوان انسان سے بہتر ہے۔ دولت کی ہوس میں انسان انسان کی جان لینے سے بھی نہیں کتراتا،لیکن کوئی بھی حیوان اپنی نسل کے جانور کا شکار نہیں کرتا تو ہم سے بہتر ہی ہوئے ناں ۔۔۔

پرندے صبح رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کوخالی ہاتھ اپنے گھونسلوں میں  جاتے ہیں کیونکہ ان کو  یقین ہے کہ جس نے آج رزق دیا ہے وہ کل بھی ضرور عطا کرے گا ۔ کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے۔  صد افسوس انسان رزق کماتا اور بچاتا بھی ہے لیکن اس کی ذات پر یقین نہیں۔ ناامیدی اور مایوسی کے باعث اس قدر دور ہو گیا ہے کہ توکل ہی نہیں کہ جس نے پیدا کیا ہے اس نے کھلانے کا وعدہ بھی کیا ہے اور جو نصیب اور مقدر میں لکھا ہے وہ ہر حال میں مل کر رہے گا۔ بے شک

 ۔بس امید اور توقع کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں دعا کرتے رہے وہ ضرور عطا کرے گا۔

دعا ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ اللہ ہم سب کو سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق زندگی گزارنے، ہر معاملے میں اللہ سے مدد مانگنے، ہمیشہ صراط مستقیم پر چلنے ،دوسروں کا احساس کرنے اور قرآن پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

طالب دعا: عرفع علوی

************

Phoolon ki tokri Article by Aiman Ishaq

 پھولوں کی ٹوکری

از قلم :  ایمن اسحاق

رمضان کا مہینہ اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ہر انسان مقدور بھر عبادتوں میں مصروف ہے۔ایسے میں فرشتے رحمتوں کے ٹوکرے لے کر جوق در جوق زمین پر اتر رہے ہیں ۔۔۔"فرشتے انسانوں کی عبادتوں کو ایک سنہری پنکھ میں لپیٹ کر اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں"۔۔

ہم جو عبادتیں جو عرضیاں اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں وہ قبول ہوتی بھی ہیں یا نہیں ، یہ وہ بھی نہیں جانتے۔

ہم روزے میں عبادت تو کرتے ہیں لیکن اس کے اصل مقصد کو نہیں سمجھتے۔۔"اس کا اصل مقصد تو ہمیں ان برے اعمال سے بچانا ہے جو ہماری منزل میں کانٹے بچھا کر ہماری منزل کو کھا رہے ہیں"۔

بچوں سے اکثر ایک سوال پوچھا جاتا ہے۔روزہ رکھا ہے ؟ کہاں رکھا ہے؟

میں اکثر سوچتی تھی میرا روزہ کہاں رکھا ہے؟

اور پھر ایک دن مجھے اس کا جواب مل گیا۔"وہ روزہ جو میں ایک کام سمجھ کر رکھ رہی تھی ۔اس کی حفاظت میرا فرشتہ کر رہا تھا۔"

ہم جو کچھ کرتے ہیں فرشتے اس کو اعمال نامے میں درج کرتے ہیں تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارا روزہ نہ دیکھا جا رہا ہو۔اس کے درجے نہ ہوں۔"جو انسان جتنا خود پر قابو پاتا اور صبر کرتا ہے اس کا روزہ اتنا ہی اعلی درجے کا ہوتا ہے۔۔"

اب سوال یہ ہے کہ فرشتہ ہمارے روزے کی کیسے حفاظت کرتا ہے؟

"ہم جب روزہ رکھتے ہیں تو وہ روزہ ایک خوشنما پھولوں کی ٹوکری کی طرح ہوتا ہے۔۔اس ٹوکری میں رنگ برنگے مہکتے ہوئے پھول ہوتے ہیں کہ اگر ان پھولوں کی خوشبو ہم محسوس کر سکتے تو ہمیں پوری کائنات مہکتی ہوئی نظر آتی۔۔"

"انسان کے روزہ رکھتے ہی وہ ٹوکری فرشتے کے ہاتھ میں آ جاتی ہے"۔۔اور پھر جب ہم نماز ادا کرتے یا قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ان پھولوں میں سے ایسی مہک آتی ہے کہ فرشتہ بھی مسکرا دیتا ہے۔۔اور اس کی مسکراہٹ سے پوری کائنات مہک اٹھتی ہے۔۔

"پھر وقت کے تھال میں سکے گرتے ہیں اور انسان کے اصل روزے کا آ غاز ہوتا ہے۔۔"

انسان جیسے جیسے غیبت کرتا ،بغض رکھتا اور غصہ کرتا اور برے اعمال کو اپناتا ہے تو پھولوں کی مہک کم ہو جاتی ہے۔حتی کہ ان میں ویرانی چھانے لگتی ہے ۔وہ جھوٹ بولتا ہے۔ اس کے کان وہ سنتے ہیں جن کے سننے سے منع کیا گیا ہے ۔اس کی آنکھیں وہ دیکھتی ہیں جن کے دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔۔

"تو ایسے میں ان پھولوں میں عجیب سی بد حالی آ جاتی ہے۔۔۔جیسے وہ اپنے ہونے پر ماتم کر رہے ہوں۔"فرشتہ پھولوں کی ٹوکری کو دیکھ کر افسردہ ہوا چلا جاتا ہے۔کہ جس کی مہک نے اسے تازہ دم کر رکھا تھا اس کی مہک اسی کا مالک کھا رہا تھا۔۔

انسان صرف اس زعم میں ہوتا ہے کہ وہ روزے سے ہے لیکن یہ زعم اسے گناہوں سے بچا نہیں سکتا اور وہ اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے۔۔۔

"اس کی سوچ اسی کے لفظوں میں ڈھل کر اس کی تدبیر کو کھا جاتی ہے"۔۔اور پھولوں کی ٹوکری اپنی آغوش میں موجود پھولوں کو دیکھ کر صرف ماتم کرتی رہ جاتی ہے۔۔

"اور پھر آخر میں صرف ایک سنہری پنکھ رہ جاتا ہے۔وہ پنکھ دراصل ایک چابی کی طرح کا ہوتا ہے جسے انسان اپنی زبان ،آنکھوں اور کانوں کو پردہ لگا کر حاصل کرتا ہے۔۔"

"افطار کا وقت ہوتے ہی فرشتہ ہاتھ میں موجود ٹوکری میں صرف ایک سنہری پنکھ دیکھ کر انسان سے بھی زیادہ بے تابی سے روزے کے افطار کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ وہ اس سنہری پنکھ کو اس انسان کے لیے بچانا چاہتا ہے جو اپنی نادانی میں اس پنکھ کے سنہری پن سےنا آشنا ہے، بلکہ وہ تو خود سے بھی نا آشنا ہے۔۔"

"روزہ افطار ہوتے ہی فرشتہ اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔اسے اس سنہری پنکھ کو اس کے اصل مقام تک پہنچانا ہوتا ہے۔"

پھولوں کی اس ٹوکری میں سنہری پنکھ کے اوپر وہ دعائیں ہوتی ہیں جو اس انسان نے افطار کے وقت مانگی ہوتی ہیں۔۔فرشتہ نہیں جانتا کہ اس انسان کا سنہری پنکھ کب اس کو منزل کا پتا بتائے گا۔شاید تب جب وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لے گا۔۔۔

فرشتہ الوداعی نظر افطار کرتے آدمی پر ڈالتا ہے اور اڑتے ہوئے سوچتا ہے۔

"اے انسان! تیرے لفظوں کی تلوار تیری منزل کو کھا گئی۔۔"

***********

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...