Showing posts with label Dr Babar Javed. Show all posts
Showing posts with label Dr Babar Javed. Show all posts

Sunday, 12 December 2021

Us ke hath kanp rahy thy by Dr Babar Javed

 اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔

تحریر  ڈاکٹر بابر جاوید

 

سیدنا حضرت علی ؓ سے کسی نے پوچھا انسان کتنا مختار اور کتنا مجبور ہے۔سیدنا حیدرکرارؓ نے اسے ایک پائوں اٹھانے کا کہا، جب اس نے پائوں اٹھالیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا اب دوسرا پائوں اٹھائو۔ لیکن کیسے ممکن تھا ،بس سمجھ لیں یہی بے بسی اورلاچاری ہے۔یہ روایت اس لیے بیان کی ہے کیوں کہ اس کے ساتھ میری تازہ ترین کہانی جڑی ہے۔

کل جمعرات تھی اور میری چھٹی تھی،ہمارے گھر ایک بیوہ خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ کام کرنے آتی ہیں۔ان کے چار بچے ہیں،شوہر کے انتقال کی وجہ سے اپنے گھر کا نظام چلانے کے لیے انہیں محنت مزوری کرنا پڑتی ہے۔وہ چار گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہیں۔ہمارے ہاں وہ چار برس سے کام کر رہی ہیں ۔ان چار سالوں میں انہیں کبھی فالتو بولتے نہیں دیکھا گیا،نہایت ڈسپلن سے اپنا کام کیا اور چلے گئیں۔انہوں نے  اپنی  طے شدہ تنخواہ کے علاوہ کبھی کسی چیز کی فرمائش یا مطالبہ نہیں کیا۔امی اپنی طرف سے کچھ دے دیں تو وہ شکریہ  کے ساتھ لے جاتیں،کل جب وہ کام کرنے آئیں تو ایسے لگتا تھا جیسے روئی ہوں، آنکھیں اس بات کی چغلی کھا رہی تھیں کہ کچھ مسئلہ درپیش ہے۔میری امی نے پوچھا ، روبینہ ،کیا بات ہے ،آج آپ کچھ پریشان سی لگ رہی ہیں،جواب میں بولی کچھ نہیں باجی،میں ٹھیک ہوں۔امی نے پھر اصرار کیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں،انہوں نے بتایا کہ باجی کرسمس سر پر ہے اور دونوں چھوٹے بچے نئے کپڑوں کی ضد کر رہے ہیں۔صبح کام کے لیے نکل رہی تھی کہ بچوں نے  پھرضد شروع کردی،چھوٹا بیٹا،چار سال کا ہے،کہنے لگا،میرے ابا ہوتے تو میں آپ کو کبھی نہ کہتا۔باجی ،میں ان کی روٹی پوری کروں کہ فرمائشیں۔میں ان کی ساری باتیں سن رہا تھا،امی نے اپنی الماری سے دو سوٹ نکالے،ایک پرانی بیڈ شیٹ اور اپنی ایک گرم شال شاپر میں ڈال کرانہیں پکڑا دی،میں نے امی کو بلوا کر کچھ نقدی دی کہ یہ روپے انہیں دے دیں تا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کپڑے خرید سکیں اور جو پیسے بچ جائیں ،اس سے کرسمس پر گھر میں اچھے کھانے پکا کر اپنے بچوں کو کھلا دیں۔ بعد میں امی  نے بتایا کہ جب روبینہ وہ روپے پکڑ رہی تھیں تو فرط جذبات سے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

اس پوسٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانیت مذہب سے ماروا ہے،اس کا احترام اور خدمت ہم سب پر واجب ہے،کرسمس کے موقع پر اگر آپ کے آس پاس کوئی کرسچین ہیں تو ان کی مدد فرمائیں تا کہ وہ اپنا مذہبی تہوار اچھے سے منا سکیں۔ایک تجویز ہے کہ میری طرح آپ بھی اپنے صاحب حیثیت دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ایک فنڈ قائم کر دیں جس میں سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالیں اور آپ اس فنڈ سے ضرورت مند لوگوں کی مدد فرمائیں۔

شکریہ۔

************

Ek khawab gazeeda shehar ki kahani by Dr Babar Javed

 ناظم آباد۔۔۔۔۔

ایک خواب گزیدہ شہر کی کہانی

تحریر۔ڈاکٹر بابر جاوید

"یہ سب علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت ھے" یاکستان بننے کے بعد امروھہ کے مشہور شاعر جون ایلیا نے کہا تھا، انکا مطلب یہ تھا کہ علی گڑھ اور عثمانیہ کالج کے گریجویٹ اور پرجوش نوجوان لڑکوں نے پاکستان مومنٹ چلائی اور پاکستان بنوایا۔

پاکستان بنا تو مہاجروں کے لٹے پٹے قافلوں نے کراچی کا رخ کیا۔۔۔۔۔۔۔

ایک وقت تھا جب یہ عروس البلاد کراچی لسبیلہ کے پل  سے اُدھر ہی ختم ھوجاتا تھا اور خاصی چوڑی اور بہت کافی جوش و خروش سے جھاگ اڑاتی لیاری ندی کراچی کے باسیوں کے لئے حد آخر تھی جہاں لوگ اکثر بنسیاں ڈالے سگرٹ کے مرغولے اڑاتے مچھلیوں کا شکار کرتے نظر آتے تھے، لیاری ندی کے اُس پار دور تلک لق و دق سنسان علاقہ تھا جس میں جنگلات تھے اور جہاں گیڈر، لومڑی اور دوسرے جنگلی جانوروں کا بسیرا تھا

 پھر یوں ھوا کہ پاکستان کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے ھندوستان سے گھر لٹا کر آنے والے مہاجرین کے لئے ایک نئی بستی بسانے کا پلان کیا، یہ بستی لیاری ندی کی دوسری طرف یعنی کراچی کے باھر آباد کی گئی، حکومت نے یہ غیر آباد علاقہ ایک قبائلی سردار مستی بروہی خان سے خریدا اور یہاں کی زمین مہاجرین کو تین روپے پچاس پیسے فی اسکوائر یارڈ کے حساب سے بیچی گئی، یہ انیس سو باون کی  بات ھے

راج نے شاقول اور کیرنی سنبھالی، رنگسازوں نے برش اور رنگوں کی بالٹیاں اٹھائیں فولاد کے بیوپاری لوھے کے ٹرکس بھر بھر کر لانے لگے سمنٹ ریت اور فولاد کے گارے سے مکان بنے، مہاجرین کی پہلی نسل کے مردوں نے مکان بنا کر اپنا فرض پورا کیا اور یوپی کی سگھڑ بیبیوں نے ان مکانوں کو گھر بنا دیا، صحنچے، دالان برامدے گملوں سے اٹ گئے، باھر گھاس کے تختوں کے پاس کی کیاریاں بگن ویلیا رات کی رانی اور عشق پینچاں کے پھولوں سے سج گئیں، گھر کے پچھواڑے میں کدو لوبیا سیم کی بیلوں نے دیواروں کو ڈھک دیا، ٹماٹر میتھی ھرا دھنیا اور پودینے کے ھرے بھرے پودوں کی مہک سے رسوئی خانے مہکنے لگے، کسی نے اپنے گھر پر نشیمن لکھوایا، کسی نے کہکشاں، کوئی کاشانہ بتول لکھوا کر شاد ھوا اور کوئی مصطفے منزل پر قانع ھو گیا، یہ سارے نام  ان کے ماضی کا دین تھے وہ گھر جو مہاجرین ھندوستان میں اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے، یہ صرف ان کے ماضی سے جڑی یادوں کو خراج تحسین ہی نہ تھا بلکہ نئی سرزمین میں اپنی ذاتی ملکیت کے احساس کا اطمینان بخش اظہار بھی تھا، دیکھتے دیکھتے ہی ناظم آباد کراچی کے الائیٹس کی محبوب بستی بن گیا

 یہ تو دنیا کے سب ہی لوگ جانتے ھیں کہ کراچی کے نہایت ذھین فطین اور باصلاحیت لوگوں کا قیام  ناظم آباد میں ہی رھا۰ 1950 سے 1980 تک ناظم آباد انٹلیکچولز کی رھائش گاہ اور کلچرل ایکٹیویٹیز کا گڑھ تھا، پی آئی بی کالونی، آگرہ تاج کالونی اور بہار کالونی کے پڑھے لکھے لوگوں نے ان علاقوں کو خیر آباد کہہ کر ناظم آباد میں نئے سرے اپنی زندگی شروع کی۔ 

لمبی چوڑی دو رویہ سڑکیں جن کے ساتھ دور تک درختوں کی قطاریں سایہ شجر دار کا نمونہ پیش کرتی تھیں پورا علاقہ اپنی صفائی ستھرائی کھلے میدانوں اور تازی ھوا کے جھونکوں کی وجہ کراچی کے دوسرے علاقوں سے منفرد تھا اور جلد ہی کراچی کے پوش ایریاز میں شمار ھونےلگا،  ایک وقت آیا جب ناظم آباد میں گھر بنانا صاحب حیثیت ھونے اور تعلیم یافتہ ھونے کا سمبل بن گیا کراچی کے دوسرے علاقوں کے باسی ناظم آباد والوں کو مہذب تعلیم یافتہ اور انٹلکچول  سمجھتے اور انکی خوش لباسی اور صلاحیتوں سے مرعوب بھی ھوتے،

لوگوں نے ناظم آباد کو فرانس کے شہر پیرس میں واقع مونٹ پارناسے نامی علاقے کا ھم پلہ قرار دیا جہاں ایک ہی وقت میں بیکیٹ، پیکاسو،  ھیمنگوے، روسو، عذرا پاؤنڈ اور سلازار جیسے بہت سے دانشور اور آرٹسٹ، رقاص، مجسمہ ساز، مصور، شاعر، اور کمپوزر رھا کرتے تھے،

گنگا جمنا تہذیب کا جتنا شہرہ ھے اگر اس تہذیب کا نمونہ دیکھنا ھے تو یہاں آباد گھرانوں کے مکینوں سے ملئے، جسٹس لاری، تنقید نگار فرمان فتح پوری، فلم ساز سعید رضوی، عالیہ امام، مجاھد بریلوی، مجنوں گورکھپوری ، مختار زمن، ڈاکٹر سرور، ذکیہ سرور، ڈاکٹر طیب،  کالمسٹ نصر اللہ خان ، انعام درانی، کون کون یہاں نہیں رھتا تھا،

صادقین، اقبال مہدی، محسن بھوپالی، سنگیتا، زیبا،ندیم  شکیل  حنیف محمد، اقبال صفی پوری، سحر انصاری اور  سلمی زمن جیسے انٹلیجنسیا، رائیٹرز، پوئٹس ارٹسٹ اسکالر، سول سرونٹ، سیاستداں، ڈاکٹرز، گلوکار، وکیل، تعلیمی ماھرین۔ یہ سب  لکھنئو، دہلی، امروہہ، کانپور، بدایوں، علی گڑھ، ملیح آباد، حیدرآباد، جونا گڑھ سے ھجرت کئے ھوئے نابغہ روزگار لوگوں کی پہلی نسل تھی۔

سرسید گرلز کالج ، ناظم آباد اسکولُ، ناظم آباد کالج ، عثمانیہ کالج،  ھیپی ڈی اسکول، خان صاحب کا پریمیئر کالج، حورانی صاحب کا سٹی کالج، عبدللہ کالج، رابعہ زبیری کا کراچی اسکول آف آرٹ اینڈ کرافٹ، وسطانیہ اسکول کے علاوہ لڑکیوں اور بچوں کی لاتعداد نرسریاں اور اسکول کھلے اور کراچی کے دوسرے علاقے کے قدیم اور معتبر تعلیمی اداروں سے ٹکر لینے لگے  

ناظم آباد کے اندر چھوٹے چھوٹے ناظم آباد بن گئے، گولیمار، عثمانیہ کالونی فردوس کالونی، رضویہ سوسائیٹی، مسلم لیگ کوارٹرز، پاپوش نگر اور  بڑا میدان، جن کی اپنی آبادی چھوٹے شہروں کے برابر تھی،

 انو بھائی پارک، ھادی مارکیٹ، گول مارکیٹ، ضیاء الدین اسپتال بقائی اسپتال صادقین ھاؤس ، سبطین منزل، محسن منزل اور حکیم سعید کی ھمدرد لیباریٹریز کا صدر دفتر ھمدرد سینٹر اس علاقے کے لینڈ مارک تھے اور پاک کریسنٹ کرکٹ کلب جہاں سے حنیف محمد،  وزیر رئیس مشتاق اور صادق محمد نے کرکٹ کھیلی، ظہیر عباس اور آصف اقبال اس کلب سے کھیل کر فخر محسوس کرتے تھے، صلاح الدین سلو اور انتخاب عالم، نیشنل کرکٹ کلب کے قریب رھتے تھے جبکہ رضویہ سوسائیٹی کی ٹیم ڈائمنڈ کرکٹ کلب کا مشہور اسپن بولر محمود الحسن تھا۔

آغا جوس ھاؤس، انبالہ سوئیٹ، ملا حلوائی،  کیفے ذائقہ،الحسن کافی ھاؤس اور کیفے وزیر  کے خوش ذائقہ کھانے دلی اور اودھ کےکھانوں اور مٹھائیوں کو مات دیتے تھے، کیفے وزیر میں جو دن میں بائیس گھنٹے کھلا رھتا تھا ایک آنے کی چائے ایک روپے پچاس پیسے کا چکن تکا اور چار آنے کی نہاری ملتی تھی، ایک پیالی چائے عوض آپ اپنے دوستوں کے ساتھ دو گھنٹے بیٹھ کر جمیل الدین عالی،عصمت چغتائی، کرشن چندر، جیلانی بانو، جوش  اور اداس نسلوں کے خالق عبدللہ حسین کے علاوہ رونا لیلی، ناھید اختر، خورشید انور، ندیم  وحید مراد اور شمیم آرا پر بحث و مباحثہ کر سکتے تھے

ناظم آباد کلب اھل ناظم آباد کا ریلیکسییشن پوائنٹ تھا  اور پھر غالب لائبریری تھی جس میں تین ھزار سے ذیادہ کتابیں تھیں  اور جس کو حبیب بنک نے فیض احمد فیض اور مرزا ظفر الحسن  کی کوششوں سے بنایا گیا تھا ، اس زمانے میں یہ ادبی تقریبات کا مرکز تھی،

فلمی تفریحات کے لئےریلیکس سینما، نایاب سینما، شالیمار سینما لبرٹی سینما تھے جہاں شرفائے ناظم آباد اپنی فیملیز کے ساتھ فلم دیکھنے جاتے، میٹنی شوز میں گھریلو خواتین اور نوجوان لڑکیوں سے ھاؤس فل ھوتا، لڑکیاں بالیاں اپنی پڑوس اور کالج کی سہیلیوں کے ساتھ بے خوف خطر فلمیں دیکھتیں مگر کبھی کسی قسم کی بیہودگی یا خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی شکایت سننے میں نہیں آتی تھی۔  

ان دنوں گرمیوں میں گھر کے دالان صحن اور چھتوں پر سونے کا عام رواج تھا کھڑکیاں کھلی رکھی جاتیں جن سے فراٹے بھرتی ھوا پورے گھر کو فیضیاب کرتی، چوری چکاری، اسٹریٹ کرائمز ڈاکے کلاشنکوف جیسی چیزوں کا نہ ڈر تھا اور نہ کوئی تصور تھا

پھر محرم آتا تو زیڈ اے بخاری اور رشید ترابی کی مجلسوں اور شہدائے کربلا کے اذکار سے ناظم آباد کی گلییوں  میں سوگواروں کے جھمگھٹے لگ جاتے، سبیلیں لگتیں لڑکے لڑکیاں سیاہ لباس پہنے ایک گھر سے دوسرے گھر مجالس میں شریک ھونے جاتے اور مجال ھے کوئی شیئعہ سنی کے اختلاف کی بات بھی سنی گئی ھو۔

چراغوں کا دھواں ھوگئے ھیں، وہ زمانے رفتگاں ھو گئے ھیں، آج یہ سب باتیں ایک خواب سا لگتی ھیں مگر جو لوگ ان سنہرے  برسوں میں ناظم آباد کی اس گولڈن لائف کا حصہ رھے ھیں وہ آج بھی ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس یادگار دور کو یاد کرتے ھیں اور گنگناتے ھیں کہ قصہ ناظم آباد مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*************

Badalty mousam by Dr Babar Javed

 بدلتے موسم

اماں کہتیں،''پنکھا چلا کر نہ سویا کر، موسم بدل رہا ہے، بیمار پڑ جائے گا''، اور وہ لحاف کے اندر منہ کیے جواب دیتا،

'' اماں مجھے گرمی لگتی ہے، پنکھے چلائے بغیر میں نہ سو سکوں''۔

''میں تو اور کچھ نہ کہتی، تیرے بھلے کیلیے کہا کہ رات کو سردی لگ گئ تو بیمار ہوجائے گا''۔ یہ کہتے ہوئے اماں چل دیتیں۔ وہ اٹھتا، پنکھے کی رفتار ذرا اور بڑھا دیتا، زرد بلب کا بٹن ٹک سے بند کرتا اور دوبارہ بستر پر لیٹ کر لحاف کھینچ لیتا۔ رفتار بڑھنے کے ساتھ پنکھے کی آواز بھی بدل جاتی اور گھڑ گھڑ کی آواز کمرے میں پھیل جاتی۔

اسے یہ آواز پسند تھی،ردھم میں چلتی پنکھے کی گھڑ گھڑ کو سنتے اسے جلد ہی نیند آجاتی تھی۔

 

 اسے بدلتے موسم بھی پسند تھے، بدلتے رنگ بھی، پر ہاں، بدلتے لوگوں سے اسکی ایک نہ بنتی۔۔۔

یوں تو بدلتے موسم میں پنکھے کی ضرورت نہ تھی پر کہتا، '' اماں، گرمیوں میں تو ہمیشہ اس ظالم پنکھے کی گرم ہوا ہی نصیب ہوتی ہے، اب تو ٹھنڈک محسوس کرلوں''۔

 

رات نجانے کس پہر آنکھ کھلتی تو محسوس ہوتا پنکھے کی رفتار قدرے آہستہ ہوچکی ہے اور اس کے جسم پر لحاف کی جگہ ایک گرم کمبل موجود ہے۔ اسے حیرت نہ ہوتی، اسے خبر تھی کہ اماں کہ علاوہ ایسا کرنے والا کوئ نہیں ہوسکتا۔ وہ ادھ کھلی آنکھوں سے زیر لب مسکراتا اور پاوں کمبل کے اندر کرلیتا۔ ہاں ایسا کرنے سے پہلے وہ اٹھ کر پنکھے کی رفتار دوبارہ بڑھانا نہ بھولتا۔

 

سویر ناشتے پر اماں ناراضگی سے کہتیں،'' رات بھی تو سردی سے ٹھٹھر رہا تھا، کیسے سمٹا پڑا تھا تب میں نے تیرے اوپر کمبل ڈال کر پنکھے کی رفتار آہستہ کی۔ دیکھ پتر کبھی میری بھی سن لیا کر''۔ آخری جملہ کہتے ہوئے اماں کی آواز میں مامتا کی مٹھاس بھر آتی

 

''اماں تم سو جایا کرو نا، میرا لیے کاہے کو جاگتی ہو''۔وہ اماں کو تنگ کرنے کیلیے کہ دیتا

 

''لے سو جاؤں، کیسے سو جاؤں، تو ادھر سردی سے ٹھٹھڑتا رہے اور میں یہاں سکون سےسو جاوں''۔

''اچھا اماں آج پنکھا بند کروں گا''۔ وہ بات ٹالتے ہوئے کہتا

''ہاں جانتی ہوں تجھے، کہتا کچھ ہے کرتا کچھ اور ہے''۔ اماں کی ناراضگی برقرار رہتی۔ وہ مسکراتے ہوئے اماں کا ہاتھ چومتا اور اٹھ جاتا۔

 

یوں بدلتے موسم کے دن گزرتے۔ نہ وہ پنکھے کی رفتار کم کرنا بھولتا اور نہ اماں رات اٹھنا بھولتیں۔ کئ برس سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا، لیکن اس  بار بدلتے موسم میں اچانک وہ معمول بدل گیا۔ اس بار اس نے کسی کے کہے بنا ہی پنکھا بند کر دیا اور پتلے لحاف کے بجائے دبیز کمبل اوڑھ لیا۔ باہر موسم تو ویسے ہی بدل رہا تھا پر اسے لگا جیسے اس بار گرمی کے بعد یکدم سخت سردی شروع ہوگئ ہے۔ باہر موسم تو ویسے ہی بدل رہا تھا پر اس کے اندر کے سارے موسم بدل چکے تھے، سارے موسم!

اس بار سب کچھ تھا پر اماں نہ رہی تھیں۔

****************

Mohabbat ka dawa kahen rad na ho jaye by Dr Babar Javed,

 محبت کا دعوی کہیں رد نہ ہو جاے🙏

کالم نگار۔ ڈاکٹر بابر جاوید


ایک اور بارہ ربیع الاول آیا اور گزر گیا۔

اس بار بھی ہم نے چراغاں کیا۔ جلوس نکالے۔ جلسے کیے۔ حکومت نے یہ دن منایا اور رعایا نے بھی۔ ہاں، یہ کوشش بھی کی گئی کہ ہماری زندگیوں پر اس دن کا کوئی اثر نہ پڑے، ہم نے اپنے کسی رویّے کو تبدیل نہیں کرنا، فرد ہے یا خاندان یا معاشرہ یا حکومت، کسی نے بھی اپنے آپ کو اس راستے پر نہیں چلانا جس کی ہمیں تلقین کی گئی ہے۔ امریکہ میں کچھ تنظیموں نے دنیا بھر کے ملکوں کو قرآن پاک اور رسول اکرمﷺ کی ہدایات کی کسوٹی پر پرکھا اور اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ آئرلینڈ، نیوزی لینڈ اور کچھ اور مغربی ملک، اس ضمن میں مسلمان ملکوں سے کہیں آگے ہیں! انفرادی سطح پر نہیں بلکہ سسٹم کے لحاظ سے! انفرادی طور پر بھی ہماری اخلاقیات ان ملکوں کے باشندوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ درست کہ شراب عام ہے اور جنسی حوالے سے اُن معاشروں میں افراتفری ہے۔

ہمارے ہاں بھی بہت کچھ ہوتا ہے مگر چھپ کر۔ ہم شراب نوشی کو اور جنسی آزادی کو غلط سمجھتے ہیں اور غلط سمجھنا چاہیے تاہم ہمارا اسلام یہاں پر آکر ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے آگے ہم اُسے نہیں بڑھنے دیتے۔ کہیں پہلے بھی عرض کیا ہے کہ صبح کی نماز میں اسلام ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم مسجد سے باہر نکل رہے ہوتے ہیں تو اسلام ہمارے ساتھ مسجد سے باہر آنا چاہتا ہے مگر ہم پورے احترام کے ساتھ اسے باہر آنے سے منع کر دیتے ہیں۔ ہم اسلام سے دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ حضور! آپ باہر دنیا کے دھندوں میں کیا الجھیں گے! یہیں مسجد میں بیٹھیے۔ ہم ظہر کے وقت دوبارہ ملیں گے۔ یوں اسلام کو مسجد میں چھوڑ کر ہم اپنے اپنے کارخانوں، دفتروں، کھیتوں، بازاروں اور کام کی جگہوں کو روانہ ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی وہاں کرتے ہیں اس میں اسلام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ظہر کی نماز پر مسجد لوٹتے ہیں تو اس سے پھر بغلگیر ہوتے ہیں۔

 

چراغاں کرنا، تعطیل منانا، ربیع الاول کے حوالے سے پروگرام کرنا آسان ہے مگر زندگی کو اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالنا مشکل ہے۔ جھوٹ ہماری ہڈیوں کے اندر گودے تک سرایت کر چکا ہے۔ گاہک ہے یا دکاندار، استاد ہے یا شاگرد، بیوی ہے یا میاں، والدین ہیں یا بچے، ماتحت ہیں یا افسر، اہل سیاست ہیں یا دوسرے شعبوں کے ماہرین، ہر شخص ہر جگہ جھوٹ بولتا ہے۔ اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اسے برا بھی نہیں سمجھتا۔ صلہ رحمی مفقود ہے۔ غریب رشتے داروں کے حقوق ادا نہیں کیے جاتے۔ قرابت داری کا انحصار زیادہ تر دولت اور سٹیٹس پر ہے۔ بہت کم خانوادے ہیں جو ملازموں کے ساتھ وہی سلوک رکھتے ہیں جو افرادِ خانہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ پڑوسیوں کے حقوق سے غفلت عام ہے۔

احادیث میں جو پیش گوئی کی گئی تھی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دوستوں اور بیویوں کو والدین پر ترجیح دی جائے گی۔ اگر یادداشت درست کام کررہی ہے تو یہ قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ادھر ادھر نظر دوڑائیے ایسی کئی مثالیں مل جائیں گی۔ حرمت رسولﷺ پر جان قربان ہے مگر سنت رسولﷺ پر عمل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ بیٹیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے صرف اسی کو دیکھ لیجیے۔ وراثت میں ان کا حصہ ہڑپ کر لیا جاتا ہے۔ بیٹی کی ولادت پر تھری پیس سوٹ والا اور جبہ و دستار والا، دونوں کا چہرہ سیاہ پڑتا ہے۔ مائنڈسیٹ ملاحظہ فرمائیے کہ بیٹی لائق ہو اور والدین کی دیکھ بھال کرے تو کہا جاتا ہے یہ بیٹی نہیں بیٹا ہے۔ واہ! کیا طرز فکر ہے! عمومی اخلاق پر غور کیجیے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم متبسم رہتے تھے۔ نرم گفتار تھے۔ آواز نہ پست رکھتے تھے نہ بہت بلند۔ صلہ رحمی فرماتے تھے۔ بچوں پر شفقت کرتے تھے۔ آپﷺ نے کبھی کسی کو طعنہ نہیں دیا۔ کبھی کسی کی غیبت نہیں کی۔ کبھی کسی زیادتی کا بدلہ نہیں لیا۔ بڑے سے بڑے دشمن کو معاف فرما دیا۔ ہم لوگ کس قدر کھردرے ہیں۔ مسکرا کر کم ہی جواب دیتے ہیں۔ شکریہ ادا کرنے میں کنجوس ہیں۔ اپنا کیا ہوا احسان یاد رکھتے ہیں اور جتاتے ہیں۔ دوسروں کے احسانات بھول جاتے ہیں۔ بدلہ لیے بغیر نیند نہیں آتی۔ اپنے قصور کی معافی مانگنے میں انا حائل ہو جاتی ہے۔ دوسرا معافی مانگے تو اکڑ بڑھ جاتی ہے حالانکہ اب میڈیکل سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ منتقم مزاج افراد کو دل کی بیماریاں دوسروں کی نسبت زیادہ لاحق ہوتی ہیں۔

 

وجہ ظاہر ہے۔ بدلہ لینے کے لیے ان کے بغض بھرے دل ہر وقت مضطرب رہتے ہیں اور دماغ کھولتے رہتے ہیں۔ عفوودرگزر کرنے والوں کی زندگیاں نسبتاً طویل ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے مختلف یونیورسٹیوں کی تحقیقی رپورٹیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں! ڈھونڈ کر پڑھ لیجیے۔ معاف کرنے میں زیادہ فائدہ معاف کرنے والے کا اپنا ہے۔ پھر، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اصحاب کی موجودگی میں آقائے دو جہاں ﷺ نے کھانا اکیلے ہی تناول فرما لیا ہو۔ کئی فاقوں کے بعد بھی کچھ میسر آتا تھا تو سب کے ساتھ مل کر کھاتے تھے۔ اہل بیت کی زندگیوں پر نظر دوڑائیے۔ یہ مقدس ہستیاں جودوسخا، بخشش، اور مہمان نوازی کی پیکر تھیں۔ ہمارے حکمران تو کھانا تنہا کھانا ہی پسند کرتے ہیں۔ ہم جو رعایا ہیں، تو ہم نے بھی پھر انہی کی تقلید کرنی ہے۔

دینی معلومات کی ذمہ داری ساری کی ساری مولوی صاحب پر چھوڑ دی گئی ہے۔ اب اردو میں دینی لٹریچر وسیع پیمانے پر موجود ہے مگر خال خال ایسے گھرانے ہیں جو اس ضمن میں خود کفیل ہیں۔ کوئی بھی مسئلہ ہو، مولوی صاحب کو ڈھونڈا جاتا ہے۔ بچوں کو ناظرہ قرآن پاک پڑھایا جاتا ہے مگر کسی کو ہوش نہیں کہ ترجمہ بھی پڑھایا جائے۔ یہ واحد کتاب ہے جسے ذوق و شوق سے پڑھنے والوں کو اس کے معنی اور مفہوم کی کوئی فکر نہیں۔ اس حقیقت پر جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے کہ پانچ وقت نماز پڑھتے عمر بیت جاتی ہے مگر نماز کے کلمات کا مطلب نہیں معلوم! مولوی صاحب دعا مانگتے ہیں۔ آمین کہنے والوں کو معلوم ہی نہیں کہ مانگا کیا ہے۔

دین کا ایک خول ہے جو ہم نے اپنے اوپر چڑھایا ہوا ہے۔ نماز، روزہ، حج۔ یہ سب صرف باہر ہے۔ اندر، ہماری عملی زندگی ہے جس کی دنیا ہی مختلف ہے۔ عملی زندگی پر دین کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیا جاتا۔ صرف ایک مثال لے لیجیے۔ ہمارے ہاں معذوروں کو حقارت آمیز ناموں سے بلایا یا یاد کیا جاتا ہے۔ کلام پاک میں اس سے منع کیا گیا ہے، مگر یہ بات کتنے لوگوں کو معلوم ہے؟ حالانکہ اس آیۂ کریمہ کو کتنی بار پڑھا اور کتنی بار سنا ہو گا! ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلانے سے منع فرمایا گیا۔ یہاں رات دن منقول کہہ کر ہر رطب و یابس کو فارورڈ کیا جا رہا ہے۔ غلط روایات، افواہوں اور اتائی نسخوں کا ایک انبار ہے جو رات دن پھیلایا جا رہا ہے۔

 

ولادت پاک کی خوشی منانا ہمارا حق ہے۔ گنہگار سے گنہگار مسلمان کا دل بھی محبت رسولﷺ سے چھلک رہا ہے۔ ساتھ ساتھ ہمیں یہ فکر بھی ہونی چاہیے کہ کل جب رسالت مآبﷺ کا سامنا ہو گا تو کہیں محبت کا دعویٰ رد نہ ہو جائے۔

زرا غور فرمائیں۔

**************

Mera tajziya apki raey ka talab by Dr Babar Javed

Ek maa likhti hain by Dr Babar Javed

 ایک ماں لکھتی ہیں!

تحریر۔ ڈاکٹر بابر جاوید

 

وہ بھی کیا دن تھے جب میرا گھر ہنسی مذاق اور لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے گونجتا تھا۔ہر طرف بکھری ہوئی چیزیں ۔۔۔ بستر پر پینسلوں اور کتابوں کا ڈھیر ۔۔۔ پورے کمرے میں پھیلے ہوئے کپڑے۔ میرا پورا دن ان کو کمرہ صاف کرنے اور چیزیں سلیقے سے رکھنے کے لیے ڈانٹنے میں گزرتا۔۔

 

صبح کے وقت ایک جاگتے ہی کہتا:

ماما مجھے ایک کتاب نہیں مل رہی

 

دوسرا چیختا:

میرے جوتے کہاں ہیں؟

 

ایک منمناتا:

ماما میری ہوم ورک والی ڈائری!

 

اور دوسرا رندھی آواز میں کہتا:

ماما میں اپنا ہوم ورک کرنا بھول گیا ۔۔۔

 

ہر کوئی اپنا اپنا رونا رو رہا ہوتا اور میں چیختی کہ آپ کی چیزوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری نہیں ۔۔۔ اب آپ بڑے ہو گئے ہو، خود سنبھالو!

 

 

آج میں ان کے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہوں. بستر خالی ہیں. الماریوں میں صرف چند کپڑے ہیں. جو چیز باقی ہے، وہ ہے ان کی خوشبو ۔۔

 

اور میں ان کی خوشبو محسوس کر کے اپنے خالی دل کو بھرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔۔۔

 

اب صرف ان کے قہقوں ، جھگڑوں اور میرے گلے لگنے کی یاد ہے ۔۔

 

آج میرا گھر صاف ہے ۔۔ سب کچھ اپنی جگہ پر ہے ۔۔ یہ پرسکون، پرامن اور خاموش ہے ۔۔۔ زندگی سے خالی ایک صحرا کی طرح ۔۔۔

 

وہ ان کا دروازے کھلے چھوڑ کر بھاگ جانا اور میرا چیختے رہنا کہ دروازے بند کرو ۔۔ آج سب دروازے بند ہیں اور انہیں کھلا چھوڑ جانے والا کوئی نہیں ۔۔

 

ایک کسی دوسرے شہر چلا گیا ہے اور دوسرا کسی دوسرے ملک ۔۔ دونوں زندگی میں اپنا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔

 

ہر بار وہ آتے ہیں اور ہمارے ساتھ کچھ دن گزارتے ہیں ۔۔ جاتے ہوئے جب وہ اپنے بیگ کھینچتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے میرا دل بھی ساتھ کھنچ رہا ہے ۔۔۔

 

میں سوچتی ہوں کہ کاش میں ان کا یہ بیگ ہوتی تو ان کے ساتھ رہتی ۔۔۔

 

لیکن پھر میں دعا کرتی ہوں کہ وہ جہاں رہیں آباد رہیں ۔۔۔

 

اگر آپ کے بچے ابھی چھوٹے ہیں تو انہیں انجوائے کریں ۔۔ ان کو گدگدائیں ، ان کی معصوم حیرت کو شیئر کریں اور ان کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا مداوا کریں ۔۔

 

گھر گندا ہے، کمرے بکھرے ہیں اور دروازے کھلے ہیں تو رہنے دیں۔ یہ سب بعد میں بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ لیکن بچوں کے ساتھ یہ وقت آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا ۔۔۔

💚

️ 🌺 

Medical store per utarti ababelen by Dr Babar Javed

  

میڈیکل اسٹور پر اترتی ابابیلیں👍

( ڈاکٹر بابر جاوید)

 

(زرا نم ھو تو یہ مٹی ......)

 

سیلزمین سے دوائیں نکلوانے کے بعد، پیسے دینے کے لیے جب کائونٹر پر پہنچا تو مجھ سے پہلے قطار میں دو لوگ کھڑے تھے۔

سب سے آگے ایک بوڑھی خاتون، اس کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا۔

میری دوائیاں کائونٹر پر سامنے ہی رکھی تھیں اور ان کے نیچے رسید۔ ساتھ ہی دو اور ڈھیر بھی تھے جو مجھ سے پہلے کھڑے لوگوں کے تھے۔

مجھے جلدی تھی کیونکہ گھر والے گاڑی میں بیٹھے میرا انتظار کررہے تھے۔۔۔ مگر دیر ہورہی تھی کیونکہ بوڑھی خاتون کائونٹر پر چپ چاپ کھڑی تھی۔

میں نے دیکھا، وہ بار بار اپنے دبلے پتلے، کانپتے ہاتھوں سے سر پر چادر جماتی اور جسم پر لپیٹتی تھی۔ اسکی چادر کسی زمانے میں سفید ہوگی مگر اب گِھس کر ہلکی سرمئی سی ہوچکی تھی۔ پائوں میں عام سی ہوائی چپل اور ہاتھ میں سبزی کی تھیلی تھی۔ میڈیکل اسٹور والے نے خودکار انداز میں خاتون کی دوائوں کا بل اٹھایا اور بولا۔

'980 روپے'۔ اس نے خاتون کی طرف دیکھے بغیر پیسوں کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ خاتون نے چادر میں سے ہاتھ باہر نکالا اور مُٹھی میں پکڑے, مڑے تڑے، 50 روپے کے دو نوٹ کائونٹر پر رکھ دئیے۔ پھر سر جھکالیا۔اب دکاندار نے سر اٹھا کر عورت کو دیکھا اور بولا۔

'بقایا ؟'۔ اس کی آواز اچانک دھیمی ہوگئی تھی۔ بالکل سرگوشی کے برابر۔ بوڑھی عورت سر جھکائے اپنی چادر ٹھیک کرتی رہی۔

شاید دو سیکنڈز کا سناٹا ہوا مگر ان دو سیکنڈز میں ہم سب کو اندازہ ہوگیا کہ عورت کے پاس دوائوں کے پیسے یا تو نہیں ہیں یا کم ہیں اور وہ کشمکش میں ہے کہ کیا کرے۔ دکاندار نے اچانک سر جھٹکا اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر، تیزی سے عورت کی دوائوں کا ڈھیر، تھیلی میں ڈال کر آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

'اچھا اماں جی۔ شکریہ'۔

بوڑھی عورت کا سر بدستور جھکا رہا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھیلی پکڑی اور کسی کی طرف دیکھے بغیر دکان سے باہر چلی گئی۔ ہم سب اسے جاتا دیکھتے رہے۔

میں حیران تھا کہ 980 روپے کی دوائیں اس دکاندار نے صرف 100روپے میں دے دی تھیں۔ اس کی فیاضی سے میں متاثر ہوا تھا۔

جونہی وہ باہر گئی، دکاندار پہلے ہمیں دیکھ کر مسکرایا۔ پھر کائونٹر پر رکھی پلاسٹک کی ایک شفاف بوتل اٹھالی جس پر لکھا تھا

 

'ڈونیشنز فار میڈیسنز'

یعنی دوائوں کے لیے عطیات

 

اس بوتل میں بہت سارے نوٹ نظر آرہے تھے۔ زیادہ تر دس اور پچاس کے نوٹ تھے۔ دکاندار نے تیزی سے بوتل کھولی اوراس میں سے مٹھی بھر کر پیسے نکال لیے۔ پھر جتنے پیسے ہاتھ میں آئے انہیں کائونٹر پر رکھ کر گننے لگا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا کام شروع ہوگیا ہے مگر دیکھتا رہا۔

دکاندار نے جلدی جلدی سارے نوٹ گنے تو ساڑھے تین سو روپے تھے۔

اس نے پھر بوتل میں ہاتھ ڈالا اور باقی پیسے بھی نکال لیے۔

اب بوتل بالکل خالی ہوچکی تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن بند کیا اور دوبارہ پیسے گننے لگا۔ اس بار کُل ملا کر ساڑھے پانچ سو روپے بن گئے تھے۔

اس نے بوڑھی عورت کے دیے ہوئے، پچاس کے دونوں نوٹ، بوتل سے نکلنے والے پیسوں میں ملائے اور پھر سارے پیسے اٹھا کر اپنی دراز میں ڈال دئیے۔

پھر مجھ سے آگے کھڑے گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔

'جی بھائی'۔

نوجوان نے، جو خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، ایک ہزار کا نوٹ آگے بڑھا دیا۔ دکاندار نے اس کا بل دیکھ کر نوٹ دراز میں ڈال دیا اور گِن کر تین سو تیس روپے واپس کردیے۔

ایک لمحہ رکے بغیر، نوجوان نے بقایا ملنے والے نوٹ پکڑ کر انہیں تہہ کیا۔ پھر بوتل کا ڈکھن کھولا اور سارے نوٹ اس میں ڈال کر ڈھکن بند کردیا۔ اب خالی ہونے والی بوتل میں پھر سے، 100 کے تین اور دس کے تین نوٹ نظر آنے لگے تھے۔ نوجوان نے اپنی تھیلی اٹھائی, سلام کیا اور دکان سے چلا گیا۔

بمشکل ایک منٹ کی اس کارروائ نے میرے رونگھٹے کھڑے کردئیے تھے۔ میرے سامنے، چپ چاپ، ایک عجیب کہانی مکمل ہوگئی تھی اور اس کہانی کے کردار، اپنا اپنا حصہ ملا کر، اسکرین سے غائب ہوگئے تھے۔

صرف میں وہاں رہ گیا تھا جو اس کہانی کا تماشائی تھا۔

'بھائی یہ کیا کیا ہے آپ نے؟'۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں پوچھ بیٹھا۔'یہ کیا کام چل رہا ہے؟'۔

'اوہ کچھ نہیں ہے سر'۔ دکاندار نے بے پروائی سے کہا۔'ادھر یہ سب چلتا رہتا ہے'۔

'مگر یہ کیا ہے؟۔ آپ نے تو عورت سے پیسے کم لیے ہیں؟۔ پورے آٹھ سو روپے کم۔ اور بوتل میں سے بھی کم پیسے نکلے ہیں۔ تو کیا یہ اکثر ہوتا ہے؟'۔

میرے اندر کا پرانا صحافی بے چین تھا جاننے کے لیے کہ آخر واقعہ کیا ہے۔

'کبھی ہوجاتا ہے سر۔ کبھی نہیں ہوتا۔ آپ کو تو پتا ہے کیا حالات چل رہے ہیں'۔ دکاندار نے آگے جھک کر سرگوشی میں کہا۔'دوائیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں۔ سفید پوش لوگ روز آتے ہیں۔ کسی کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس بالکل نہیں ہوتے۔ تو ہم کسی کو منع نہیں کرتے۔ اللہ نے جتنی توفیق دی ہے، اتنی مدد کردیتے ہیں۔ باقی اللہ ہماری مدد کردیتا ہے'۔

اس نے بوتل کی طرف اشارا کیا۔

'یہ بوتل کتنے دن میں بھر جاتی ہے؟'۔ میں نے پوچھا۔

'دن کدھر سر'۔ وہ ہنسا۔'یہ تو ابھی چند گھنٹے میں بھرجائے گی'۔

'واقعی'۔ میں حیران رہ گیا۔ 'پھر یہ کتنی دیر میں خالی ہوتی ہے؟'۔

'یہ کبھی خالی نہیں ہوتی سر۔ اگر خالی ہوجائے تو دو سے تین گھنٹے میں پھر بھر جاتی ہے۔ دن میں تین چار بار خالی ہوکر بھرتی ہے۔ شکر الحمدللہ'۔ دکاندار نے اوپر دیکھ کر سینے پر ہاتھ رکھا اور بولا۔

'اتنے لوگ آجاتے ہیں پیسے دینے والے بھی اور لینے والے بھی'۔ میں نیکی کی رفتار سے بے یقینی میں تھا۔

'ابھی آپ نے تو خود دیکھا ہے سر'۔ وہ ہنسا۔'بوتل خالی ہوگئی تھی۔ مگر کتنی دیر خالی رہی۔ شاید دس سیکنڈ۔ لیکن ابھی دیکھیں'۔ اس نے بوتل میں پیسوں کی طرف اشارہ کیا۔

'پیسے دینے والے کون ہیں؟۔

'ادھر کے ہی لوگ ہیں سر۔ جو دوائیں خریدنے آتے ہیں، وہی اس میں پیسے ڈالتے ہیں'۔

'اور جو دوائیں لیتے ہیں ان پیسوں سے، وہ کون لوگ ہیں؟'۔ میں نے پوچھا۔

'وہ بھی ادھر کے ہی لوگ ہیں۔ زیادہ تر بوڑھے، بیوائیں اور کم تنخواہ والے لڑکے ہیں جن کو اپنے والدین کے لیے دوائیں چاہیے ہوتی ہیں'۔ اس نے بتایا۔

'لڑکے؟'۔ میرا دل لرز گیا۔'لڑکے کیوں لیتے ہیں چندے کی دوائیں؟'۔

'سر اتنی بے روزگاری ہے۔ بہت سے لڑکوں کو تو میں جانتا ہوں ان کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے'۔ اس نے دکھی لہجے میں کہا۔ 'اب گھر میں ماں باپ ہیں۔ بچے ہیں۔ دوائیں تو سب کو چاہئیں۔ تو لڑکے بھی اب مجبور ہوگئے ہیں اس بوتل میں سے دوا لینے کے لیے۔ کیا کریں۔ کئی بار تو ہم نے روتے ہوئے دیکھا ہے اس میں سےلڑکوں کو پیسے نکالتے ہوئے۔ یقین کریں ہم خود روتے ہیں'۔ مجھے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی نظر آنے لگی۔

'اچھا میرا کتنا بل ہے؟'۔ میں نے جلدی سے پوچھ لیا کہ کہیں وہ میری انکھوں کی نمی نہ دیکھ لے۔

'سات سو چالیس روپے'۔ اس نے بل اٹھا کر بتایا اور ایک ہاتھ سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ میں نے بھی اس کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور جو پیسے باقی بچے، بوتل کا ڈھکن کھول کر اس میں ڈال دیے۔

'جزاک اللہ سر'۔ وہ مسکرایا اور کائونٹر سے ایک ٹافی اٹھا کر مجھے پکڑا دی۔

میں سوچتا ہوا گاڑی میں آبیٹھا۔

غربت کی آگ ضرور بھڑک رہی ہے ۔

مفلسی کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔

مگر انہی آسمانوں سے ابابیلوں کے جھنڈ بھی، اپنی چونچوں میں پانی کی بوندیں لیے، قطار باندھے اتر رہے ہیں۔

خدا کے بندے اپنا کام کررہے ہیں۔

چپ چاپ۔ گم نام۔ صلے و ستائش کی تمنا سے دور۔

اس یقین  کے ساتھ کہ خدا دیکھ رہا ہے اورمسکرارہا ہے کہ اس کے بندے اب بھی اس کے کام میں مصروف ہیں۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

***************

Zikar e Hussain se fikar e Hussain tak by Dr Babar Javed

  

ذکرِ حسین ؓ سے فکرِ حسینؓ تک!!

( ڈاکٹر بابر جاوید)

 ذکر کا مدعا فکر ہے، اور فکر ہمیں آمادۂ ذکر کرتا ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ فکر ایک خاموش ذکر ہے اور ذکر ایک بولتا ہوا فکر!!  ذکر ایک دعویٰ ہے، فکر ایک نظریاتی وابستگی ہے----فکر ایک ایسی نظریاتی وابستگی ہےٗ جس میں دل اور عقل یکجائی میں ہم نوائی کرتے ہیں۔  ذکر اور فکر کے بعد ہی انسان ایک مبنی بر شعور عمل کی شاہراہ پر جادۂ منزل ہوتا ہے۔ ذکر سے فکر تک ، اور پھر فکر سے  عمل تک سفر--- ایک ایسا سفر ہےٗ جو راستے میں دم نہیں توڑتا۔ یہ سفر اپنی منزل سے دُور نہیں --- شرط یہ ہے کہ مسافر مایوس نہ ہو،  دوسرے مسافروں سے جھگڑا نہ کرے اور وہ مادّی نظامِ فکر کے ہاتھ پر بیعت نہ کرے۔ آج کے دَور میں جس نے اپنے نظامِ فکر پر مادّے کی حکمرانی قبول کر لی‘ اُس نے گویا یزید کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یزید اور اہلِ شام مادّی نظامِ فکر کی علامت ہیں۔ جنابِ حسین ؑ اور اہلِ مدینہ روحانی اور اخلاقی نظامِ فکر کے داعی ہیں۔

 

 کرب و بلا کا یہ واقعہ محض دو شخصیات یا دو قبیلوں کا تنازع نہیں، اور نہ ہی یہ حصولِ اقتدار کی کوئی جنگ تھی۔ مدینہ سے کربلا   کے پڑاؤ تک یہ سارا سفر دراصل دو نظریات کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف امام عالی مقام اپنے ناناٗ ہادیٔ دوعالم‘ شہر علمؐ کی عطا کردہ آسمانی ہدایت کے نمائندہ ہیں، یہ اپنے والدِ گرامی‘ دَرِ علم ٗابوترابؑ کے فکری ورثے کے جانشین ہیں ---- اور دوسری طرف شامی حکمران ہیں‘ جو قیصر وکسریٰ کے نقشِ قدم  پر سنگ و خشت کے محلات کی تعمیر میں مصروف ہیں اور اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی لیے ہر وہ کام کر گزرنے کے لیے تیار ہیں جس کی نظیر نہ کہیں دین میں ملتی ہے اور نہ ہی کتابِ انسانیت سے۔ اِدھر خانوادۂ نبوّ ت ورسالت ؐ کا بچہ بچہ، جوان، خواتین اور عمر رسیدہ بزرگ ٗسب کے سب کتابِ انسانیت میں بابِ حریت رقم کر رہے ہیں۔

 

عارفین کہتے ہیں کہ کربلا کا قافلہ رکا نہیں، آج بھی رواں دواں ہے، آج بھی جو شخص روحانی و اخلاقی اقدار کا امین ہوگا ‘مادّی نظامِ فکر کی قوتیں اُس کا جینا محال کر دیں گی، اُسے کوفۂ ملامت سے گزرنا ہو گا، شامی صفت لوگ  اسے اس کے حق سے محروم  کریں گے، وہ  سرِعام طعن و تضحیک کا  نشانہ بنے گا --- اور  اپنے ظرف کے حسبِ حال دشت ِ کرب و بلا میں آبلہ پیمائی اُس کا مقدر ہوگی۔ اگر وہ اس پر راضی رہتا ہے، شکوہ و شکایت کاراستہ اختیار نہیں کرتا ‘ تو وہ بالیقین اِس قافلے کا حصہ گنا جائے گا---ایسا قافلہ کہ جسے اس کا غبار بھی  نصیب ہو جائےٗ وہ خوش نصیب کہلاتا ہے، انعام یافتہ لکھا جاتا ہے اور حکمت کے خیر کثیر سے اُس کا دامن بھر دیا جاتا ہے۔ اِس راہ کے راہرو کو جلوہ ٔدانشِ فرنگ خیرہ نہ کر سکے گا کیونکہ اِس کی آنکھ میں خاکِ مدینہ و نجف  کا سرمہ  لگا دیا جاتا ہے۔

 

 ذکرِ حسین ؑایک شوق ہے، فکرِ حسینؐ ایک ذوق ہے۔ شوق اور ذوق دونوں کا بلند آہنگ ہونا ضروری ہے، تا آن کہ شاہراہِ مستقیم پر انسان  گامزن ہو سکے  ---  یہی راہ ہے ٗجو سیدھی ہے، یہی انعام یافتگان کی منزل ہے --  عارفینِ حق اِسی راہ پر جادہ پیما ہوتے ہیں۔ راہِ حق کے راہروٗ  اپنے پیش رَو کے قدم پر ہوتے ہیں اور اپنی استقامت کی وجہ سے پیچھے آنے والوں کے لیے ایک سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ سلسلہ بہ سلسلہ یہ تمام سلسلے دَرِ علم ؐ کی وساطت سے شہر علمؐ میں جا ملتے ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ فقر کے بہتر( 72) درجے ہیں اور میدانِ کربلا میں یہ تمام کے تمام  درجے طے ہوئے۔ 

 

 واقعہ کربلا صرف ایک دینی درس ہی نہیں‘ بلکہ ایک مکمل درسِ انسانیت  ہے۔ اِس کی یاد، ذکر اور فکر تک رسائی کے لیے قاضیوں اور مفتیوں سے فتویٰ نہ لیا جائے بلکہ اپنے باطن میں اس کا ربط تلاش کیا جائے،  ضمیر انسانیت میں اُس کا جواز ڈھونڈا جائے۔ اس قیمتی پیغام کو مسلکی اور گروہی تعصبات کی نذر نہ کیا جائے‘ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ خانوادہ نبوت و ولایت پوری اُمّت ِ مسلمہ کا سرمایہ ہے، اِ س خانوادے سے مؤدّت کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کا  ہر حکم قیامت تک کے لیے نافذ العمل ہے۔ سیاسی اور سماجی مجبوریاں کسی حکم کو منسوخ نہیں کر سکتیں۔اگر کسی کو ذکر حسین ؑمیں پنہاں فکر حسینؐ کے سَوتوں تک معنوی رسائی میسر نہیں آرہی ہے‘  تو وہ ذکرِ حسینؑ کا جواز قران میں موجود حکم’’مؤدۃ ذی القربیٰ‘‘ ہی میں تلاش کر لے---- اس آیت مبارکہ میں رسولِ پاکﷺ کو وحی کی جارہی ہے کہ آپؐ انہیں کہہ دیں‘ میں تم سے رسالت کا اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے عزیز و اقرباء کے ساتھ مؤدت اختیار کرو۔ مستند احادیث مبارکہ میں درج ہے کہ اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دو اور انہیں اہلِ بیت کی محبت سکھاؤ۔ مؤدتٗ محبت سے کم درجے کا جذبہ ہے، اِس کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ اہل بیت اور جملہ سادات کو عوام الناس کی صف میں کھڑا نہ کیا جائے۔ خالقِ کائنات نے اپنے حبیبؐ کے نسب کو یہ عزت و تکریم دی  کہ عوام الناس  کا صدقہ و زکوٰۃ  اِن پر حرام کر دیا‘ہمیں  مخلوق ہونے کے ناتے  یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔

 

  ہمارے ہاں یہ ایک عجیب رواج بن چکا ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر متنازع گفتگو کا آغاز ہو جاتا ہے، ہر طرف ایک دانشورانہ اور مجتہدانہ پند و نصائح کا طومار لگ  جاتا ہے-- ذکر ایسے نہیںٗ ایسے ہونا چاہیے ، یاد اس طرح نہیں بلکہ اس طرح منانی چاہیے ، محبت کے تقاضے یوں نہیں بلکہ یوں پورے ہوتے ہیں، اور یہ کہ یہ لفظی ترکیب اس طرح نہیں بلکہ اس طرح سے باندھنی چاہیے، الغرض اس لایعنی بحث میں ہم ذکر اور فکر دونوں سے دُور ہوئے جاتے ہیں۔ یہ  ایک  فکری المیہ ہے کہ ہم محبت اور عقیدت کی بجائے اہلِ بیت کی بے مثل قربانیوں کو محض سیاسی تناظر میں دیکھنے کی جستجو کرتے ہیں۔ تاریخی واقعہ جیسا بھی ہو ٗاگر تاریخی شخصیت سے محبت و مؤدت کا رشتہ نہ ہوگا تو ساری  گفتگو ایک بے تعلق  فلسفہ بن کر رہ جاتی ہے۔ سیاسی توجیہات تلاش کرنے والے تلاشِ حق میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ بے تعلق فلسفہ اور تاریخ تو غیر مسلم بھی پڑھتے رہتے ہیں اور  اپنے طور ریسرچ کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں کلمہ اور کلمے والوں کی نسبت نصیب نہیں ہوتی۔ بات ریسرچ کی نہیں‘ سرچ کی ہے۔ ریسرچ واقعات اور افراد  کی ہوتی ہے، سرچ یا تلاش ٗحق کی ہوتی ہے۔ حق کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ حق ٗحق کو نہیں کاٹتا۔ مردانِ حق اپنے سے پہلے گزرنے والے حق پرستوں کے ساتھ ربط اور رابطے میں ہوتے ہیں۔ ایسی تحقیق جو ماضی سے منقطع کردے‘ وہ عام طور پر گمراہ کن ہوتی ہے۔ راہِ حق ٗراہروانِ حق کے چلنے اور کہنے سے ترتیب پاتا ہے۔ حکم ہے’’کونو مع الصادقین‘‘ سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ مرشدی حضرت واصف واصفؒ فرماتے ہیں کہ سچ وہ ہے جو سچے کی  زبان سے نکلے۔  اب یہ جاننا کوئی راکٹ سائینس نہیں کہ حق پرست کون تھے، اور اُن کے مقابل میں آنے والے کون ہیں۔ آج ہم اپنے رائے کا ووٹ جس کیمپ کی طرف کاسٹ کرتے ہیں، اگر ماضی میں ہمیں وہ زمانہ ملتا تو ہم اسی کیمپ کا حصہ ہوتے۔ سلامتی کے جس دین کو سلامت رکھنے کے لیے آلِ نبیؐ نے اپنا سب  کچھ  قربان کیا ٗ اس دین کو ہم نے کہاں کہاں برباد کیا؟ ہمیں سوچنا چاہیے۔ ہمیں اپنی سوچ کے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیےکہ ہم کس طرف کھڑے ہیں. معترفین کی طرف یا معترضین کی طرفداری میں؟

حکیم الامّت اس معاملے میں ایک پُرحکمت فرقان قائم کرگئے.

 

حقیقتِ اَبدی ہے مقامِ شبیّری.

 

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی.۔۔

***************

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...