Showing posts with label Saira Ghaffar. Show all posts
Showing posts with label Saira Ghaffar. Show all posts

Saturday, 18 April 2020

Sunehri Joor By Saira Ghaffar



سنہری جوڑ
(سائرہ غفار)


اس نے پوچھا تھا:"اس کی صرف ماں مر گئی ہے یا باپ بھی مرگیاہے"۔
اور وہ تو جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کے مصداق اس کی شکل دیکھتا ہی رہ گیاتھا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ شاید خو دکو بھی مردہ ہی تصور کرلیاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حبیبہ کی پیدائش کے تین گھنٹے بعد ہی الشبہ نے اس فانی جہاں سے کوش کر لیاتھا۔ اس نے اپنی بیٹی کو دیکھا اور دھیرے دھیرے اس نے آنکھیں موند لیں۔ حبیبہ اپنی ماں کے چہرے تو تک رہی تھی۔۔۔ ہاتھ پائوں چلا رہی تھی۔۔۔ مگر وہ تو وہاں تھی ہی نہیں۔۔۔۔ 
عباد نے اپنی بیٹی کو گود میں لیا تو اسے معلوم تھا کہ الشبہ زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ بیٹی کو دیکھنے کی خواہش بھی اس نے جن مردہ سانسوں کے درمیان کی تھی عباد نے وہ سب منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔ یہ ان کی زندگی کے ساتھ گزارے دس سالوں کی پہلی خوشی تھی اور خوشی سے زیادہ یہ دکھ کی گھڑی بن گئی تھی۔
نرس نے الشبہ کی گود سے حبیبہ کو الگ کیا اور عباد کی بانہوں میں تھما دیا۔ عباد نے ایک نظر اپنی ننھی پری کو دیکھا اور اپنی زندگی کی شہزادی کو نم ناک آنکھوں سے دیکھا۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہاتھا کہ وہ خوش ہو یا روئے۔۔
خوشی سے آنسو بہائے یا غم کے۔۔۔
اس کی خوشی پہ اس کا دکھ دھیرے دھیرے غالب آرہاتھا۔
 اسے حبیبہ کی ہر آواز پہ غصہ آنے لگاتھا۔ چونکہ حبیبہ کی ماں نہیں تھی اس لئے اس کی زندگی میں کئی مسائل تھے۔ اس کے رونے کی آواز سن کر ہی عباد غصے سے لال پیلا ہونے لگتا تھا۔۔۔ برداشت کرتے کرتے جب تھک جاتا تو پھٹ پڑتا اور غصے سے چیخنے چلانے لگتا۔ اس کے والدین اور بہن بھائی اسے سمجھاتے کہ حبیبہ ابھی بہت چھوٹی ہے وہ یہ سب نہیں سجھتی وہ ماں کا لمس اور اس کی گود چاہتی ہے لیکن افسوس کہ وہ دونوں ہی ا سکو میسر نہیں ہیں۔
عباد اپنا سر پکڑ لیتا اور خود کو کمرے میں گھنٹوں تک بند کرلیتا۔ حبیبہ اب ایک ماہ کی ہوگئی تھی۔ عباد کبھی کبھار اس پہ کوئی اچٹتی سی نظر ڈال لیتا تو ٹھیک ورنہ وہ زیادہ تر دادی اور پھپھو کی ہی گود میں نظر آتی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد کا دوست حامد  عمرے سے واپس آیا تو اسے پتہ چلا کہ عباد کی بیوی کا رضائے الہٰی سے انتقال ہوگیاہے تو وہ تعزیت کے لئے اس کے پاس پہنچ گیا۔
سلام دعا خیرخیریت اور تعزیت ہوجانے کے بعد حامد نے عباد سے اس کی بیٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے روکھا سا جواب دیا۔ حامد بہت حیران ہوا اور اس نے جو کہا وہ سن کر عباد کے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ اس نے پوچھا:"اس کی صرف ماں مر گئی ہے یا باپ بھی مرگیاہے"۔
اور وہ تو جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کے مصداق اس کی شکل دیکھتا ہی رہ گیاتھا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ شاید خو دکو بھی مردہ ہی تصور کرلیاتھا۔

"عباد تم جانتے ہو میں کچھ دنوں کے لئے جاپان گیاتھا۔ وہاں میں نے ایک چیز دیکھی تھی۔ ایک ٹوٹا ہوا کپ۔۔۔ ہمارے یہاں تو ایک کپ ٹوٹ جائے تو اسے ڈسٹ بن میں پھینک دیاجاتا ہے لیکن پتہ ہے وہاں کیا کرتے ہیں"؟

"کیا کرتے ہیں؟"اس نے بے دلی سے پوچھا۔

"وہ لوگ اس کپ میں سنہری جوڑ لگاتے ہیں۔ جسے وہ لوگ کینتسوگی کہتے ہیں۔ جب کوئی کپ بائول یا کوئی بھی برتن ٹوٹ جاتا ہے ناں تو وہ لوگ ا س کو بیٹھ کر اپنے ہاتھ سے جوڑتے ہیں اور جوڑ لگانے کے لئے وہ سونا استعمال کرتے ہیں۔ سنہری جوڑ لگنے کے بعد چیز خوب صورت لگنے لگتی ہے۔ وہ جوڑ اس ٹوٹی ہوئی شے کی قدر و قیمت میں بھی اضافہ کردیتا ہے اور اسے بے مول  سے انمول بنادیتا ہے۔   میں نے وہیں یہ بات سیکھی کہ انسان ٹوٹ جائے تو اسے مرجانے کی خواہش کرنے کے بجائے اپنے لئے کوئی سنہری جوڑ تلاش کرلینا چاہئے۔ میری بہن کو تو تم جانتے ہوناں"؟

عباد کی نگاہوں میں اس کی لنگڑی بہن کا خاکہ ایک دم سے ابھر آیا اور اس نے ہاں میں سر ہلادیا۔ 

"جب اس ایکسیڈنٹ میں اس کی ٹانگ کٹ گئی تھی تو وہ ہم سب کے لئے بہت مشکل وقت تھا۔ پھر اس نے اپنے لئے ایک سنہری جوڑ ڈھونڈ لیا۔ اس نے گھر میں ہی سلائی کا کام شروع کیا تھا۔ وہ اتنی مصروف ہوتی تھی کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی اس کے پاس۔ سب لوگ اس کے اس کپڑے سلوانے آتے تھے۔ آج اس کا اپنا بوتیک ہے۔ اس نے اپنی وہ پرانی سلائی مشین اب بھی وہاں سجا کر کھی ہے کیونکہ وہ اس کا سنہری جوڑ ہےعباد کو خاموش دیکھ کر حامد نے اس کی طرف ھک کر سرگوشی کرتے ہوئے کہا:"تم بھی اپنی بیٹی کو اپنی زندگی کا سنہری جوڑ بنالو"؟

عبادنے اسے حیرت سے دیکھا تو وہ بولا:"چلتا ہوں۔ پھر ملتے ہیں"۔

عباد اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد گھر پہنچا تو اندر آتے ہی اس کی نظر حبیبہ پہ پڑی جو دادی کی گود میں سکون سے سو رہی تھی۔
اس کے کھلونے، فیڈر سب اردگرد بکھرا پڑا تھا۔ وہ ماں کے برابر بیٹھا اور دھیرے سے حبیبہ کے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ بہت نازک ہے۔
اس کی ماں نے چونک کر اس کا بدلا ہوا روپ دیکھا لیکن کوئی سوال کئے بنا حبیبہ کو اس کی گود میں ڈال دیا۔
اس دن سے عباد نے اپنی مرمت کا کام شروع کردیا۔ اور حبیبہ نے اس کی ذات کی رفو گری کرتے ہوئےسنہری جوڑ لگانے شروع کر دئیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

Sunday, 29 March 2020

Teri nawawzish mukhtasir by Saira Ghaffar Complete PDF



Teri nawawzish mukhtasir by Saira Ghaffar Complete PDF

Is a social romantic Novel by the writer 

She has written many stories and has large number of 

fans waiting for her novels 

she has written in

Prime Urdu Novels .

Readers Choice 

This is the  group which per mote  the writer to write online and 

show their writing abilities and skill . You can find many Digests

 and Books of many Writers here.

We give a platform for the new minds who want to write and show 

the power of  their words 


Mostly writer shows us the reality and stories 

which are around us 

They have such   ability to guide us through their 

words and stories 

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .

You can download through the links and  can read them .


If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 

 Download Link 

OR  

OR 

Read Online 

OR 




Click on the READ MORE  button to continue reading


If you have a problem in downloading, please click below link

Tuesday, 24 March 2020

Kuch dair rehny dey khwab main by Saira Ghafar Complete PDF


Kuch dair rehny dey khwab main by Saira Ghafar Complete PDF

Is a social romantic Novel by the writer 

She has written many stories and has large number of 

fans waiting for her novels 

she has written in

Prime Urdu Novels .

Readers Choice 

This is the  group which per mote  the writer to write online and 

show their writing abilities and skill . You can find many Digests

 and Books of many Writers here.

We give a platform for the new minds who want to write and show 

the power of  their words 


Mostly writer shows us the reality and stories 

which are around us 

They have such   ability to guide us through their 

words and stories 

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .

You can download through the links and  can read them .


If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 

 Download Link 

OR  

OR 

Read Online 

OR 

Click on the READ MORE  button to continue reading

If you have a problem in downloading, please click below link 

Monday, 23 March 2020

Adhora main mukaml tum by Saira Ghafar Complete PDF



Adhora main mukaml tum by Saira Ghafar Complete PDF



Is a social romantic Novel by the writer 

She has written many stories and has large number of 

fans waiting for her novels 

she has written in

Prime Urdu Novels .

Readers Choice 

This is the  group which per mote  the writer to write online and 

show their writing abilities and skill . You can find many Digests

 and Books of many Writers here.

We give a platform for the new minds who want to write and show 

the power of  their words 


Mostly writer shows us the reality and stories 

which are around us 

They have such   ability to guide us through their 

words and stories 

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .

You can download through the links and  can read them .


If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 

 Download Link (Drive )

Adhora main mukaml tum by Saira Ghafar Complete PDF


OR  

 Download Link 

Adhora main mukaml tum by Saira Ghafar Complete PDF



OR 

Read Online 

OR 

Click on the READ MORE  button to continue reading


If you have problem in download please click this link below 

Saturday, 21 March 2020

Assalam o Alaikum Warahmatulla e Wabaakatuhu By Saira Ghaffar Short Online Urdu Story



Assalam o Alaikum Warahmatulla e Wabaakatuhu By Saira Ghaffar Short Online Urdu Story 

السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
(سائرہ غفار)

"السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"
اجنبی شخص کے سلام کرنے پر ڈیوڈ نے سر ہلایا۔

وہ اجنبی شخص مسکراتا ہوا چل دیا اور ڈیوڈ دیگر لوگوں میں مصروف ہوگیا۔ اس نے سرے سے اس اجنبی شخص کا نوٹس ہی نہیں لیا۔

اگلے روز ڈیوڈ نے اپنا لیکچر ختم کیا تو وہی شخص مسکراتا ہوا آگے آیا:"السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"۔
ڈیوڈ نے مصافحہ کر کے سر ہلایا۔
وہ اجنبی شخص مسکراتا ہوا وہاں سے چل دیا۔ ڈیوڈ نے کوئی توجہ نہیں دی۔

تیسرے دن ڈیوڈ کے لیکچر کا موضوع تھا "یسوع مسیح کے جانثار حواری"۔ ڈیوڈ لیکچر ختم کر کے ہال سے باہر نکلا ہی تھا کہ اجنبی شخص نے مسکراتے ہوئے مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا:"السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"۔

ڈیوڈ نے ہاتھ تھام کر اسے غور سے دیکھا۔ وہ ہاتھ ملا کر اپنے رستے ہولیا۔ آج ڈیوڈ نے اسے دور جاتے ہوئے بڑے غور سے دیکھاتھا۔

اگلے روز ڈیوڈ کے ساتھ سامعین کا سوال جواب کا دن تھا۔ لوگ اس سے مختلف سوال کررہے تھے اور وہ ان کے تسلی بخش جواب دے رہاتھا۔ اس کی معلومات کا خزانہ وسیع تھا اور اندازِ بیان فصیح و بلیغ تھا۔ لوگ انہماک سے سن رہے تھے۔ اچانک سامعین میں سے وہی اجنبی شخص اٹھ کھڑا ہوا اور ڈیوڈ سے مخاطب ہو کر بولا:"السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"۔ ڈیوڈ نے اسے غور سے دیکھا وہ اسے پہچان چکا تھا۔ سبھی کی نظریں اس اجنبی انسان پہ ٹکی ہوئی تھیں۔ اور وہ سب سے بے پرواہ ہال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ رہاتھا۔ ڈیوڈ کے ساتھ ساتھ باقی سب لوگ بھی اسے تعجب سے دیکھ رہے تھے۔ اچانک ڈیوڈ نے کہا:"رک جائو"۔

وہ رک گیا پلٹ کر ڈیوڈ کو دیکھا۔ اس کے چہرے پہ بڑی سادہ اور معصوم سی مسکراہٹ تھی۔ ڈیوڈ نے پوچھا:"آپ نے اپنا سوال نہیں پوچھا؟آپ شاید سوال کرنا بھول گئے ہیں"۔

"میں تو کئی دنوں سے آپ سے سوال کر رہاہوں مگر آپ جواب ہی نہیں دیتے"۔ اجنبی کے چہرے پہ ہنوز مسکراہٹ قائم تھی۔

ڈیوڈ نے سکون سے کہا:"اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو براہِ کرم آپ اپنا سوال دہرادیجیئے۔ میں شاید آپ کا سوال سمجھ نہیں پایا ہوں گا اس لئے جواب نہیں دے سکا۔ آپ دہرائیے میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل جائے"۔

ڈیوڈ کی بات سن کر اجنبی کی مسکراہٹ گہری ہوگئی:"السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"۔

چند لمحے ہال پر سناٹا طاری رہا۔
ڈیوڈ نے پھر تحمل سے کہا:"براہِ کرم اپنا سوال کیجئیے"۔

سارے ہال کو جیسے سانپ سونگھ کیا تھا۔ اجنبی نے مسکراتے ہوئے کہا:"آپ نہیں سمجھیں گے"۔
ڈیوڈ اسے ہال کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھتا رہا۔ ہال میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔ انتظامیہ نے سوال جواب کے سیشن کو اگلے دن بھی جاری رکھنے کا اعلان کر کے محفل برخاست کردی۔ ڈیوڈ جتنا سوچتا اتنا ہی الجھ کر رہ جاتا۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آرہاتھا کہ آخر وہ اجنبی انسان کیا پوچھنا چاہتا تھا اور وہ کیوں بار بار ایک ہی جملہ کی گردان ہانکتا رہتا تھا۔

اگلے دن سوال جواب کے دن کا آغاز ہوا تو ڈیوڈ کو لاشعوری طور پر اس اجنبی انسان کا انتظار تھا پھر رفتہ رفتہ وہ جواب دینے میں اتنا منہمک ہوا کہ اجنبی کا خیال ا س کے ذہن سے محو ہوگیا۔ ابھی ڈیوڈ ایک سوال کا تسلی بخش جواب دے کر فارغ ہوا ہی تھا کہ اچانک وہ اجنبی سامعین میں سے اٹھ کھڑا ہوا اور مسکراتے ہوئے بولا:"السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"۔
ڈیوڈ چند لمحے اسے تحمل سے دیکھتا رہا مگر اجنبی خاموشی سے کھڑا مسکراتا رہا۔
"کیا یہی آپ کا سوال ہے؟"
ڈیوڈ نے اچانک سے پوچھا تو اجنبی کی آنکھوں کی چمک کئی گنا بڑھ گئی۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا:"شکر الحمد للہ! آج آپ نے میرا سوال سمجھ لیا"۔
ڈیوڈ تذبذب کے عالم میں کھڑا ہوا ۔ اجنبی نے مسکرا کر کہا:"مجھے امید ہے کہ آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے"۔

ہال پر سناٹا طاری تھا۔ ڈیوڈ کی نگاہیں اس پہ ٹکی ہوئی تھیں:"اس سوال سے آپ کی منشاء کیا ہے آخر؟ میں نے آپ کے متعلق مکمل معلومات حاصل کی ہیں مگر میں اس سوال کی وجہ تسمیہ جاننے سے قاصر رہاہوں"۔

"اس میں الجھنے کی قطعاً کوئی بات نہیں ہے بس مجھے میرے سیدھے سادے سوال کا جواب دے دیجئیے۔ پھر آپ اپنے رستے اور میں اپنے رستے"۔
اجنبی مسکرایا۔ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کی چمک کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ ڈیوڈ چند لمحے اسے دیکھتا رہا جیسے فیصلہ کرنے سے پہلے انسان اس کے غلط ہونے کے متعلق سوچتا ہے۔
اجنبی شخص مسکرایا اور سر جھٹک کر بولا:"آپ آج بھی مجھے خالی ہاتھ لوٹا رہے ہیں"۔ وہ پلٹنے لگا تو ڈیوڈ نے اسے پکارا:"ٹہرو"۔
اجنبی نے رک کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
ڈیوڈ نے بہت تحمل سے کہا:"وعلیکم السلام!"۔

اجنبی مسکرایا پھر ممنونیت سے بولا:"آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں مگر یہ جواب ادھورا ہے۔ میں کل پھر آئوں گا آپ سے مکمل جواب سننے کے لئے"۔

ڈیوڈ اسے جاتا دیکھتا رہا وہ خود میں عجیب سی سنسناہٹ محسوس کررہاتھا۔ باقی کے سوال جواب کے دوران بھی اس کا دماغ اس اجنبی کی باتوں میں ہی اٹکا رہا۔

اگلے دن ڈیوڈ کو واپس جانا تھا۔ وہ پیکنگ کرنے پھر ملنے ملانے میں بے حس مصروف تھا۔ اس لئے اجنبی کا خیال اسے چھو کر بھی نہیں گزرا۔ ائیر پورٹ پر اپنے احباب سے الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے اچانک اس نے اپنے عقب سے وہی مانوس سی مسکراتی آواز سنی:"السلام اعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"۔

ڈیوڈ کے چہرے پر بھی بے ساختہ مسکراہٹ ابھر آئی۔ اس نے پلٹ کر اجنبی کو دیکھا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا جسے اجنبی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر دھیرے سے دبایا۔ ڈیوڈ کے منہ سے بے اختیار نکلا:"وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"۔
اجنبی کی مسکراہٹ گہری ہو گئ:"شکر الحمد للہ آج آپ نے مجھے مکمل جواب دے دیا۔ اب مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں"۔

ڈیوڈ اسے جاتا دیکھا رہا۔ وہ خود حیران تھا کہ مکمل جواب اس کے منہ سے کیسے نکل گیا۔ اس نے اپنے قدم ڈیپارچر لائونج کی طرف بڑھادئیے۔ اسے کہیں دور سلامتی کی روشنی محسوس ہورہی تھی اور وہ جلد از جلد اب اس روشنی کو پالینے کے لئے گھر جانا چاہتا تھا۔ تاکہ یہی سوال وہ دہرا سکے کسی اور ڈیوڈ سے جواب حاصل کرنے کے لئے۔

اس کے لبوں پہ ایک آسودہ مسکراہٹ آکر ٹہر ئی اور اس نے اپنا سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں۔

(ختم شد)

Sunday, 28 July 2019

Woh mery dil ka malal tha by Saira Ghaffar Complete PDF




Woh mery dil ka malal tha by Saira Ghaffar Complete PDF

Is a social romantic novel by the writer 

This is their first but not last attempt to write a story , thoughts , 

information etc 

She is emerging new writer and its her first novel written for

Prime Urdu Novels .

Readers Choice 

This is the  group which per mote  the writer to write online and 

show their writing abilities and skill .

We give a platform for the new minds who want to write and show 

the power of  their words 


Mostly writer shows us the reality and stories 

which are around us 

They have such   ability to guide us through their 

words and stories 

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .

You can download through the links and  can read them .


If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

This novel surely grab your attention and give you eager   to read more 

Here is her novel to read and to download 

 Download Link ( Media Fire )

OR  

OR 

Read Online 

OR 

Click on the READ MORE  button to continue reading


If you have problem in download please click this link below 

Thursday, 18 July 2019

Badal Rahi hai Rut by Saira Ghaffar Complete PDF




Badal Rahi hai Rut by Saira Ghaffar Complete PDF


Is a social romantic novel by the writer 

This is their first but not last attempt to write a story , thoughts , 

information etc 

She is emerging new writer and its her first novel written for

Prime Urdu Novels .

Readers Choice 

This is the  group which per mote  the writer to write online and 

show their writing abilities and skill .

We give a platform for the new minds who want to write and show 

the power of  their words 


Mostly writer shows us the reality and stories 

which are around us 

They have such   ability to guide us through their 

words and stories 

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .

You can download through the links and  can read them .


If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

This novel surely grab your attention and give you eager   to read more 

Here is her novel to read and to download 

 Download Link ( Drive  )

Badal Rahi hai Rut by Saira Ghaffar Complete PDF



OR  

 Download Link ( Media Fire )

Badal Rahi hai Rut by Saira Ghaffar Complete PDF


OR  

Read Online 


Click on the READ MORE  button to continue reading


If you have problem in download please click this link below 

Monday, 15 July 2019

Mily ho tum hum ko bary naseebon se by Saira Ghaffar Complete




Mily ho tum hum ko bary naseebon se by Saira Ghaffar Complete  


Is a social romantic novel by the writer 

This is their first but not last attempt to write a story , thoughts , 

information etc 

She is emerging new writer and its her first novel written for

Prime Urdu Novels .

Readers Choice 

This is the  group which per mote  the writer to write online and 

show their writing abilities and skill .

We give a platform for the new minds who want to write and show 

the power of  their words 


Mostly writer shows us the reality and stories 

which are around us 

They have such   ability to guide us through their 

words and stories 

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .

You can download through the links and  can read them .


If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

This novel surely grab your attention and give you eager   to read more 

Here is her novel to read and to download 

 Download Link ( Media Fire )

Mily ho tum hum ko bary naseebon se by Saira Ghafar Complete


OR  

Read Online 

OR 

Click on the READ MORE  button to continue reading


If you have problem in download please click this link below 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...